Jumu'ah, 23 Rabi' al-Awwal 1448 AH
Support Al-Falah Welfare

شاہ ولی اللہ محدث دھلویؒ

ولادت، تعلیم، بیعت و خلافت، تصانیف اور وصال کا مختصر تذکرہ

شاہ ولی اللہ محدث دھلویؒ
سیرتِ اکابرسلسلہ علمی و روحانی مضامین

شاہ ولی اللہ محدث دھلویؒ

ولادت، تعلیم، بیعت و خلافت، تصانیف اور وصال کا مختصر تذکرہ

حضرت شاه ولي الله محدث دهلوي كي ولادت 4 شوال المكرم 1114ھ، 21 فروري 1703ئ كو يو پي ميں ضلع مظفر نگر كے قصبہ "پھلت" ميں (اپنے نانا كے يهاں) به وقت طلوعِ آفتاب هوئي۔ آپ كا تاريخي نام عظيم الدين ركھا گيا، آپ جس خاندان ميں پيدا هوئے وه علم و فضل كا گهواره تھا۔ آپ كے والد ماجد حضرت شيخ شاه عبد الرحيم اپنے وقت كے متبحر عالم، صوفيِ باصفا، قناعت پسند بزرگ، ظاهري و باطني علوم كے حامل اور عقل و فراست ميں يكتاے روزگار تھے۔ حضرت شاه ولي الله كا سلسله نسب، والد بزرگوار كي طرف سے امير المومنين سيدنا عمر فاروق رضي الله عنه اور والده محترمه كي جانب سے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ سے جا ملتا هے۔

شاه ولي الله كي ابتدائي تعليم والد ماجد شاه عبد الرحيم كے پاس بڑي جاں سوزي اور شفقت سے انجام پائي۔ شاه ولي الله عالمِ طفوليت هي سے ذهين و فطين، قوي الحافظه اور بزرگانه شرافت كے حامل تھے۔ سات سال كي عمر ميں قرآن پاك حفظ كرنے كے بعد فارسي اور عربي كتابيں پڑھنے كے ساتھ هي ساتھ مذهبي اركان و فرائض بھي تدريجاً سيكھ ليے۔ دس سال كي عمر ميں فوائد ضيا ئيه (شرح ملا جامي) اور شرح الكافيه پڑھ لي۔ اپني ذهانت و ذكاوت طبع كے باعث صرف و نحو پر عبور حاصل كرنے كے ساتھ ساتھ پندره سال كي عمر ميں تفسير، حديث، فقه، عقائد، كلام اور منطق وغيره علوم كي تعليم سے فراغت حاصل كر لي۔ مروجه درسيات كے علاوه متعدد كتب و رسائل كا بھي مطالعه كيا۔ جب آپ نے سندِ فراغت حاصل كي تو والد ماجد نے ايك عظيم جشن منايا، جس ميں هر خاص و عام كو دعوت دي گئي، يه اپني نوعيت كا منفرد جشن تھا۔

پندره برس كي عمر ميں شاه ولي الله محدث دهلوي نے اپنے والد ماجد شاه عبد الرحيم محدث دهلوي سے بيعت و خلافت حاصل كي اور اشغال صوفيه خصوصاً نقشبنديه ميں مشغول هوئے اور علومِ اسلاميه پر عبور حاصل كيا۔ علومِ اسلاميه سے فراغت كے بعد والد ماجد نے آپ كو درس و تدريس كي اجازت مرحمت فرمائي۔ والد ماجد كي وفات كے بعد آپ باره سال تك كتب دينيه اور معقولات كا درس ديتے رهے، جيسا كه آپ نے خود تحرير فرمايا:

"بعد از وفات حضرت ايشاں دوازده سال كما بيشي بدرس كتب دينيه و عقليه مواظبت نمود و درهر علمي خوض واقع شد۔"

يعني ان كي وفات كے باره سال تك باقاعدگي سے منقولات و معقولات كي كتابيں پڑھائيں اور هر شعبه ميں غور و خوض كيا۔ آپ نے والد ماجد كے درس و تدريس كے سلسلے كو آگے بڑھايا اور لوگوں كو فيض پهنچايا۔ هندستان كے عوام و خواص اور اس عهد كے بڑے بڑے اساتذه اور ماهرين فن آپ سے مستفيد هوتے رهے۔ مدرسه رحيميه ميں باره سال تك درس و تدريس ميں مشغول رهنے كے بعد 1143ھ، 1731ئ ميں زيارت حرمين شريفين كي سعادت حاصل كي۔

چوده مهينے حجازِ مقدس ميں رهنے كے بعد واپس آكر شاه صاحب نے درس و تدريس كا سلسله دوباره شروع كيا۔ طالب علموں كي كثير تعداد كے باعث مدرسه رحيميه كي عمارت اپني وسعت كے باوجود تنگ داماني كا شكوه كرنے لگي۔ تشنگانِ علومِ نبوي دور دراز سے جوق در جوق اپني علمي پياس بجھانے كے ليے آتے رهے اور شاه صاحب كے درس حديث سے استفاده كرتے رهے۔

شاه صاحب نے اپنے قيامِ حرمين شريفين ميں مدينه منوره اور مكه معظمه كے نام ور شيوخ سے شرف تلمذ حاصل كيا۔ شيخ ابراهيم بن الحسن المدني سے حديث مسلسل كي سند و اجازت حاصل كي۔ شيخ ابو طاهر نے شاه صاحب كو خرقه جامعه عنايت فرمايا، جس كو تمام صوفيوں كے خرقوں كا جامع كها جاتا هے۔ اس اثنا ميں روضه رسولِ پاك صلي الله عليه وسلم سے آپ پر فيوض و بركات كي خوب خوب بارش هوئي۔ 1144ھ، 1732ئ ميں اپنے ماموں حضرت شاہ عبید اللہ صدیقی پھلتی اور حضرت شاہ عاشق صدیقی پھلتی کے ساتھ فريضه حج سے مشرف هو كر 1145ھ، 1733ئ ميں بخيريت وطن واپس تشريف لائے۔

خلفاء: آپ کے خلفاء میں خلیفہ اعظم شاہ محمد عاشق صدیقی پھلتی، شاہ نور اللہ صدیقی پھلتی، حضرت خواجہ محمد امین کشمیری اور حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی شامل ہیں۔

درس و تدريس كے ساتھ شاه صاحب نے تصنيف و تاليف كے ذريعه تجديد و احياے دين كا كام كيا۔ وه عارف كامل، علومِ شرعيه كے محقق امام اور ميدانِ حكمت و عمل كے شه سوار تھے۔ شاه صاحب نے محسوس كيا كه لوگ قرآن كريم كا احترام تو كرتے هيں اور خير و بركت كے ليے اس كي تلاوت بھي كي جاتي هے ليكن معني كي طرف توجه نه هونے كے باعث اس كا حقيقي مقصد فوت هوتا جا رها هے۔ چناں چه آپ نے قرآن پاك كا فارسي زبان ميں ترجمه كيا اور اس كي مختصر تفسير بھي كي۔ شاه ولي الله نے اپني ديني اور اصلاحي جد و جهد كے ليے قرآن كريم كو مشعلِ راه بنايا۔ آپ نے علمِ تفسير پر بھي كئي كتابيں تصنيف كيں، جن ميں "الفوز الكبير في اصول التفسير" بهت عمده اور مشهور كتاب هے۔

شيخ عبد الحق محدث دهلوي (م 1642ئ) كے بعد هندستان ميں علمِ حديث كا ذوق و شوق بھي كم هوتا رها۔ شاه ولي الله نے اس كو مسلمانوں كي اخلاقي و روحاني اصلاح كے ليے از سرِ نو زنده كيا۔ شاه صاحب نے قيامِ حجاز كے دوران وهاں كے جليل القدر اساتذه سے علومِ حديث كي سنديں حاصل كيں۔ وطن واپس آنے كے بعد آپ نے خود كو خدمتِ حديث كے ليے وقف كر ديا۔ تشنگانِ علمِ حديث دور دراز سے بڑي تعداد ميں آتے اور آپ كي خدمت ميں ره كر اپني علمي پياس بجھاتے۔ شاه صاحب كے درس حديث اور ان كي كتابوں سے هندستان ميں تجديد و احياے اسلام كي تكميل هوئي۔

قرآن و حديث كے بعد فقه كو بهت زياده اهميت حاصل هے۔ علمِ فقه ميں شاه صاحب نے متعدد كتابيں تحرير فرمائيں۔ انھوں نے چاروں مذاهبِ فقه كے اختلافات كي بنياد كو واضح كرنے كے ليے ايك كتاب "الانصاف في بيان سبب الاختلاف" لكھي۔ اس كے علاوه آپ نے علمِ فقه پر متعدد كتابيں تحرير فرمائيں۔

شاه ولي الله كا خاندان علمِ تصوف كا گهواره تھا۔ آپ كے والد ماجد شاه عبد الرحيم اپنے دور كے مانے هوئے صوفي تھے۔ شاه صاحب نے انھيں كي صحبت ميں تصوف كے منازل طے كيے اور انھيں سے اشغال سيكھے۔ تصوف كے موضوع پر شاه صاحب نے درجنوں كتابيں تحرير فرما كر تصوف كي عظيم ترين خدمت انجام دي۔

حضرت شاه ولي الله بيك وقت مفسر، محدث، فقيه، مجتهد، متكلم اور صوفي تھے۔ انھوں نے اصول و عقائد، علمِ منطق، علمِ معاني، علمِ هندسه و حساب اور علمِ هيئت كا به نظر عميق مطالعه كيا تھا۔ درس و تدريس اور اپني جليل القدر تصانيف سے شاه صاحب نے علوم و معارف كے دريا بها ديے۔ ان كي علمي فياضيوں اور عظمت و بزرگي كے باعث دور دور سے طالبانِ علوم و معارف ان كے حلقه درس ميں شامل هو كر علمي بركتيں حاصل كرتے۔ بر صغير ميں علومِ اسلاميه كي تاريخ ميں شاه صاحب كو منفرد مقام حاصل هے۔ حضرت شاه ولي الله بهت هي عظيم الشان اور جليل القدر كتب كے مصنف هيں، انھوں نے ايك سو سے زائد كتابيں تصنيف كيں، جن ميں متعدد كتابيں حوادثِ زمانه كي نذر هو گئيں، جو محفوظ ره گئيں ان ميں چھوٹي بڑي كتابوں كي تعداد پچاس سے كچھ زائد هے۔ شاه صاحب كي كچھ اهم تصنيفات يه هيں۔

تفسير: (1) فتح الرحمن في ترجمۃ القرآن، (2) الفوز الكبير في اصول التفسير، (3) فتح الخبير، (4) المسويٰ في احاديث الموطا، (5) المصفيٰ في شرح الموطا، (6) تراجم البخاري، (7) اربعون حديثا، (8) الارشاد الي مهمات علم الاسناد، (9) الانتباه في سلاسل اوليائ الله، (10) الدرالثمين في مبشرات النبي الامين۔

اسرار شريعت: (11) حجۃ الله البالغه، (12) الانصاف في بيان سبب الاختلاف، (13) عقد الجيد في احكام الاجتهاد و التقليد، (14) المفالۃ الوضيۃ في النصيحۃ والوصيۃ۔

تصوف: (15) فيوض الحرمين، (16) القول الجميل، (17) الطاف القدس، (18) الخير الكثير، (19) كشف العين، (20) هوامع شرح حزب البحر، (21) زهراوين، (22) تفهيمات الالٰهيۃ، (23) شفائ القلوب، (24) ھمعات، (25) سطعات، (26) لمعات، (27) مكتوبات فارسي (مشموله كلمات طيبات)، (28) مكتوبات عربي (مشموله حيات ولي)، (29) مكتوبات المعارف مع مكتوب ثلاثه، (30) مكتوبات شاه ولي الله (مرتبه خليق احمد نظامي)، (31) انفاس العارفين۔

سير و ادب: (32) سرور المخزون في سير الامين المامون، (33) اطيب الغنم في مدح سيد العرب و العجم، (34) الجزئ اللطيف في ترجمۃ العبد الضعيف، (35) شوارق المعرفۃ، (36) بوارق الولايه، (37) امداد في مآثر الاجداد، (38) النبذ الا ھريزيه في الطبقۃ العزيزيه، (39) عطيۃ الصمديه في الانفاس المحمديه، (40) انسان العين في مشائخ الحرمين۔

مناظره: (41) ازالۃ الخفائ عن خلافۃ الخلفائ، (42) قرۃ العين في تفضيل الشيخين، (43) نظم صرف مير۔

متفرق: (44) رساله دانش مندي۔

حضرت شاه ولي الله كي هر تصنيف اس قدر محققانه اور مجددانه هے كه آب زر سے لكھنے پر بھي اس كا حق ادا نهيں هوسكتا۔ ظلم و تاريكي كے اس دور ميں شاه صاحب نے مختلف موضوعات پر يه كتابيں لكھ كر بهت بڑا كارنامه انجام ديا هے۔

شاه صاحب كي طرف جعلي كتب كا انتساب: بعض ارباب تحقيق كے مطابق كچھ لوگوں نے ايك منظم سازش كے تحت كتابيں لكھ كر شاه ولي الله محدث دهلوي اور ان كے خاندان سے منسوب كر كے شائع كيں اور ان كي اصل كتابوں كي عبارتوں كو بھي بدل كر شائع كرايا۔ محققين نے بهت سي جعلي كتب كي نشان دهي كي هے۔ مشهور محقق مولانا يٰسين اختر مصباحي اس تعلق سے يوں رقم طراز هيں:

"حضرت شاه ولي الله كے افكار و تعليمات، آپ كے صحيح نظريات و خيالات سے آگاهي كے ليے القول الجلي، انفاس العارفين، فيوض الحرمين، الدر الثمين، القول الجميل، الانتباه في سلاسل اوليائ الله جيسي كتابوں كا به نظر غائر مطالعه كيا جانا چاهيے۔"

شاه ولي الله اور ان كا مسلك: حضرت شاه ولي الله مسلمانوں كے ايك عظيم رهبر و ره نما اور اسلامي مفكر تھے۔ شاه صاحب كا مسلك بالكل وهي تھا جو دورِ حاضر ميں اهلِ سنت و جماعت كا هے۔ آپ بر صغير كي ايسي واحد شخصيت هيں جسے هر مسلك والے اپنا قائد تسليم كرتے هيں، مگر شاه صاحب كي كتابوں سے جن عقائد و نظريات كا پته چلتا هے وه اهلِ سنت و جماعت سے هم آهنگ اور وهابيه كے خلاف هيں۔

"كتب تصوف كے مطالعه سے حضرت شاه صاحب كے جن عقائد و نظريات كا پته چلتا هے، اس سے تو يهي ثابت هو رها هے كه شاه صاحب اُسي مسلك كے حامي تھے جس كي ترجماني اور نشر و اشاعت اس دور ميں علماے اهل سنت و جماعت به الفاظ ديگر علماے دیوبند كر رهے هيں۔"

حضرت شاه صاحب كي متعدد تصانيف ميں علم غيب، تصرف، استمداد، توسل، حاظر و ناظر، اعراس، ميلاد و فاتحه، نذر و نياز، اطلاع خواطر، زيارت قبور، احياے موتيٰ كے سلسله ميں واضح موقف ملتا هے، اور انھيں مسائل پر ان كے آبا و اجداد كا عمل رها هے جنھيں شاه صاحب نے نه صرف اپني كتابوں ميں بيان كيا هے بلكه ان هي پر عمل پيرا بھي رهے۔

شاه صاحب كے پانچ صاحب زادوں كے نام معلوم هو پائے هيں۔ حضرت شاه ولي الله كے مشهور صاحب زادوں كے اسماے گرامي يه هيں: 1) حضرت شاہ محمد، 2) شاه عبد العزيز (م 1239ھ، 1822ئ)، 3) شاه رفيع الدين (م 1233ھ، 1817ئ)، 4) شاه عبدالقادر (م 1230ھ، 1814ئ)، 5) شاه عبد الغني (م 1227ھ، 1812ئ)۔

"مولوي عبد الحي نے نزهۃ الخواطر ميں شاه صاحب كے ايك صاحب زادے كا نام محمد شاه دهلوي بھي تحرير كيا۔"

ڈاكٹر ثريا ڈار رقم طراز هيں:

"ليكن تحقيق كرنے سے يه بات پايه ثبوت كو پهنچ جاتي هے كه شاه ولي الله كے ايك بيٹے محمد شاه دهلوي بھي تھے۔"

اس طرح شاه صاحب كے پانچ صاحب زادوں كا تذكره ملتا هے۔ حضرت شاه ولي الله محدث دهلوي كا انتقال 29 محرم الحرام 1176ھ، 20 اگست 1762ئ به وقت ظهر اكسٹھ سال كي عمر ميں هوا۔ پراني دهلي ميں تركمان گيٹ كے قريب مهنديوں كے اندر اپنے والد شيخ عبد الرحيم كے پهلو ميں راحت فرما هوئے۔ اس خاندان كے هر فرد كے آفتابِ علم حديث هونے كے باعث يه قبرستان "محدثين كے قبرستان" كے نام سے مشهور هے۔ آپ كي تاريخِ وفات اس مصرع سے نكلتي هے: "او بود امام اعظم ديں" — 1176ھ۔