تذکرۃ الصالحین از قریۃ الصالحین: حضرت عارف باللہ شاہ شیخ حسیب اللہ
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے ماموں اور مربی کا تذکرہ
حضرت عارف باللہ شاہ شیخ حسیب اللہ بن شیخ محمد بن شاہ عاقل بن شاہ ابو الفضل بن شاہ ابو الفتح بن شاہ فرید بن محمد بن قاضی یوسف صدیقی، آپ امام الہند امام الاولیاء خاتم المحدثین حضرت امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے ماموں تھے۔ آپ شریعت اور طریقت کے علوم کے جامع تھے اور تمام اعلیٰ اوصاف سے متصف تھے، ان میں عنفوانِ شباب سے ہی آثارِ شجاعت ظاہر تھے، فنونِ تیر اندازی اور برق اندازی میں بڑے ماہر تھے، متعدد بار کفار سے مقابلہ ہوا اور ایک ایک کر کے ان سب کو جہنم رسیدہ کیا۔ خطِ نستعلیق میں کمال رکھتے تھے، جواں مردی، تقویٰ اور طہارت ان کی فطرت تھی، بمصداقِ من الہدیٰ الی الہدیٰ، عفت اور عصمت میں پیدا ہوئے اور نشو و نما پائی اور انہی صفات میں اس عالم سے رخصت ہوئے۔ عفو اور حلم کی خصلت اس حد تک رکھتے تھے جو دوسروں میں متصور نہیں ہو سکتی، متبعین اور ملازمین کی گستاخی، شوخی اور بے ادبی کو اس طرز پر تبسم و شگفتہ روئی کے ساتھ درگزر فرماتے کہ دیکھنے والے متحیر رہ جاتے۔ غرض یہ کہ اس سلسلے میں حضرت غفور و حلیم کے اخلاق سے متخلق تھے بلکہ ان دونوں ناموں کے متحقق تھے، گویا بے آمیزشِ نفس ایک روحِ مجسم تھے اور گویا اس مقام کے خاتم تھے۔ ارادتِ الٰہی اور راضی بالرضا رہنے کی صفت میں اہلِ کمال سے بھی سبقت لے گئے تھے، وجود کی نیستی اور نفی از سر تا پا مترشح تھی۔ غرض یہ چاروں خصلتیں جن سے مطلب طہارت، تواضع، جوانمردی اور انصاف پسندی ہے، ان تمام خوبیوں کا دارومدار انہی صفات پر ہے، ذاتِ شریف اعلیٰ وجہِ الکمال تھی۔
تحصیلِ علم: گیارہ سال کی عمر میں قرآن پاک حفظ کر کے محراب میں سنایا، اس کے بعد تحصیلِ علوم میں مشغول ہوئے۔ بعض کتابیں والدِ ماجد حضرت شیخ بزرگ محمد قدس سرہ العزیز سے پڑھیں اور بیشتر اپنے برادرِ معظم حضرت عارف باللہ شیخ شاہ عبید اللہ صدیقی رحمۃ اللہ علیہ سے پڑھیں، اور تکمیلِ کتب شیخ بزرگ شاہ عبدالرحیم محدث دہلوی سے کی۔ نیز والدِ بزرگوار شیخ محمد سے اشغالِ طریقت حاصل کر کے سلوک طے کیا۔ اس کے بعد جب ان کے والد نے اس جہاں سے رخصت فرمائی تو امام الطریقت قطب الحقیقت حضرت شیخ بزرگ شاہ عبدالرحیم محدث دہلوی کی خدمت میں سعادت اندوز ہو کر تمام اشغال بڑی محنت اور تندہی سے حاصل کیے یہاں تک کہ مرتبہ کمال اور تکمیل کو پہنچے۔ حضرت شیخ بزرگ نے اجازت اور خلافت سے مشرف فرمایا اور ایک تحریر عطا فرمائی۔
سندِ اجازت اور خلافت: بسم اللہ الرحمن الرحیم، سب تعریف اس اللہ کے لیے ہے جس نے ہم کو صراطِ مستقیم کی ہدایت دی، اور درود و سلام ہو اس کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر جو راہِ راست کی طرف ہدایت دینے والے اور اخلاقِ عظیمہ کے حامل ہیں، اور ان کے اصحاب پر جو رسول اللہ کی جانب ہدایت دینے والے ہیں۔ اما بعد: بندہ حقیر فقیر عبدالرحیم بن وجیہ الحق، اللہ تعالیٰ اس کی اور اس کے والدین کی مغفرت فرمائے، کہتا ہے کہ والدِ صالح متقی پاک باز حسیب اللہ ابن چشمہ حقائق و معارف شیخ شاہ محمد پھلتی قدس سرہ العزیز نے میری صحبت کو لازم کیا اور مجھ سے علمِ تفسیر، حدیث، تصوف اور بقیہ اشغالِ ثلاثہ طریقت یعنی طریقہ عالیہ قادریہ، چشتیہ، نقشبندیہ حاصل کیے۔ اللہ تعالیٰ ان کے طالبین کو زیادہ اور سالکین کو واصل کرے، میں نے ان میں اسرار و انوار و آثارِ مشاہدے کیے۔ پس میں نے اس سلسلے میں سالکینِ الی اللہ کے طالبین کی رشد و ہدایت کے لیے اللہ سے استخارہ کیا، اس نے مجھے اس بات کا حکم اور الہام فرمایا کہ ان کو ارشاد و ہدایت کی اجازت دوں، چنانچہ مشائخِ عظام، علمائے کرام، فقرائے اکرام کی موجودگی میں ان کو طالبین اور سالکین کی رشد و ہدایت کی اجازت دی، جس طرح مشائخِ مذکورہ رحمہم اللہ اجمعین نے مجھ کو اجازت دی، ان کا ہاتھ میرا ہاتھ ہے، جس نے ان سے بیعت کی اس نے مجھ سے بیعت کی، اور جس نے مجھ سے بیعت کی گویا اس نے نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام سے بیعت کی۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو راہِ مستقیم پر استقامت اور مداومت عطا فرمائے، نیز میں نے ان کو علمِ تفسیر، حدیث اور تصوف کی تعلیم دینے کی بھی اجازت دی۔
اس کے بعد اجازتِ ارشاد پا کر وطن آئے اور مسندِ ہدایت پر بیٹھ کر علومِ ظاہری اور اسرارِ باطن میں مشہور ہوئے، ہمیشہ قرآن و حدیث کے درس کے پابند رہے، تمام عمر ریاضت اور مجاہدہ میں بسر کی، بہت سے چلے کھینچے اور چند چلے ایسے بھی کھینچے جن میں باوجود عدمِ اجازت کے سکوتِ محض اختیار کیا اور صرف اپنے کام میں مشہور رہے۔ ایک عالم نے ان سے فیضِ صحبت سے نورِ باطنی حاصل کیا، چنانچہ شاہ محمد عاشق صدیقی جو آپ کے بھتیجے ہیں اور شاہ نور اللہ صدیقی پھلتی اور بہت سے علماء و صلحاء جن کا تعلق قصبہ پھلت سے تھا، آپ سے مستفید ہوئے۔
ایک جگہ حضرت شاہ حسیب اللہ نے فرمایا کہ سالک پر ایک وقت ایسا آتا ہے کہ اس کی حقیقت کی توجہ عالمِ ارواح کی طرف ہو جاتی ہے اور اس وقت انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام اور اولیاء رضوان اللہ اجمعین کی ارواح اس کی طرف متوجہ ہو جاتی ہیں، اور اس فقیر نے اکابرِ طرق قدس اسرارہم کی ارواح سے عالمِ رویا میں صحبت اٹھائی ہے، فیوض اور برکات حاصل کیے ہیں، بعضوں کی صورت کا مشاہدہ کیا اور بعضوں کے مزارات کی زیارت کی ہے۔
کشوف و مشاہدات: چنانچہ ایک بار دیکھا کہ حضرت آدم بنوری رحمۃ اللہ علیہ مسجد کے جنوبی در میں تشریف فرما ہیں اور حضرت قبلہ گاہی مسجد کے صحن میں ہیں، اسی اثنا میں ایک شخص نیاز کی پتاشی لایا اور حضرت قبلہ گاہی نے مجھ سے شربت بنانے کا اشارہ فرمایا، میں نے تعمیلِ حکم فرماتے ہوئے شربت بنایا، پھر حضرت صاحب نے وہ شربت پیا اور بقیہ دوسروں کو تقسیم فرمایا۔ ایک بار شیخ بدر الدین مدار کو کھڑے ہوئے دیکھا، آپ کی شکل نورانی، سر مبارک پر سفید دستار اور بالا بند سیاہ تھا۔
حضرت مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی رحمۃ اللہ علیہ کے مزارِ پرسرار کی زیارت کا شوق مجھے بہت زیادہ تھا اور قریب تھا کہ میں احرام باندھ کر مزار کی زیارت کے سفر کے لیے روانہ ہو جاتا، اسی اثنا میں ایک واقعہ دیکھا کہ حضرت مجھے دیدار کروا رہے ہیں، تشریف فرما ہوئے اور فرما رہے ہیں کہ میرا فیض ہر جگہ ہے، آپ کو یہاں آنے کی ضرورت نہیں، مجھے بہت تسکین ہوئی، اگرچہ اس خواب میں آپ کی صورتِ مبارک کا میں نے مشاہدہ نہ کیا۔ میں نے تمام انبیاء علیہم الصلوٰۃ کی ارواح کا مچھلیوں کی صورت میں مشاہدہ کیا، میں نے دیکھا کہ تمام شجر اور حجر مچھلی کی صورت سے پُر ہیں اور ہر جگہ ہزار لاکھوں مچھلیاں پیدا ہیں، بعض کی اشکال پوری اور بعض کی ناقص اور نامکمل ہیں۔
حضرت خواجہ بہاء الدین نقشبند کی زیارت: ایک بار مخلصین میں سے ایک شخص نے تربیتِ توجہ کی استدعا کی، جب میں خلوت میں بیٹھ کر ان پر توجہ کرنا چاہی تو دیکھا کہ صاحبِ سلسلہ حضرت خواجہ نقشبند کھڑے ہیں، سرخ و سفید رنگ، نورانی شکل، میانہ قد، گھٹا ہوا جسم، اس صورت کا مشاہدہ کرتے ہوئے مذکورہ شیخ پر ایسی حالت غالب ہوئی کہ انہیں اپنا ہوش نہ رہا، اسی اثنا میں ایک شخص نے ہجرے کے طاق کی طرف ہاتھ دراز کیا اور دراز کرنے میں کچھ آواز پیدا ہوئی جس سے وہ چونک پڑا اور کہا کہ ایک مدت سے اس بے خودی اور غیبتِ حال کی تمنا و آرزو تھی، اب میسر آئی۔
ایک بار میں نے دیکھا کہ ہوا پر جنازے کی طرح جا رہا ہوں، یہاں تک کہ شہرِ اجمیر میں خواجہ معین الدین چشتی اجمیری کے مزار میں پہنچا، ان کی قبرِ شریف کی زیارت کی، میں نے اس مزار پر انوار کو سنگِ سفید میں دیکھا اور اس مقبرے کے احاطے کے دو دروازے پائے، جس کے بارے میں، میں نے خادمین سے دریافت کیا تو انہوں نے بھی ویسے ہی نشان دیے جیسا کہ مشاہدہ تھا۔ ایک بار میں نے اپنے آپ کو دیکھا کہ ایک کنویں پر جا رہا ہوں، میں نے دیکھا کہ اس کے ہر زینے پر حضرت پیرِ دستگیر غوثِ اعظم اور حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری کی صورتیں جلوہ گر ہیں، یہ دیکھ کر مؤدب ہو گیا اور اپنے پیروں کو احتیاط سے رکھنے لگا۔
وصال: ماہِ شعبان 1159ھ میں آپ نے بنیتِ اربعین اعتکاف فرمایا، اسی رات بخار ہو گیا، دو تین روز تک آپ نے کسی سے اظہار نہ فرمایا، آخر جب مرض میں شدت ہوئی تو ناچار خلوت سے باہر آئے، یہاں تک کہ پورا رمضان تکلیف میں گزرا، ہر چند علاج کیا لیکن خاطر خواہ فائدہ نہ ہوا، آخر اپنے برادرِ موصوف شیخ عبید اللہ سے عرض کیا کہ اس مرض میں کوئی دوا فائدہ نہیں کرے گی اور معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی دعا و توجہ شریف کے بغیر مرض رفع نہ ہوگا۔ چنانچہ آپ کی صدا پر حضرت والا نے دعا فرمائی، شب کے وقت واقعے میں دیکھا کہ دو تین اوباش مسجد کو منہدم اور بنیاد سے کھودنا چاہتے ہیں، آپ نے ان کو بزور بلیغ منع فرمایا، وہ آپ کی تنبیہ سے باز آئے، صبح آپ نے یہ واقعہ سنایا کہ شفا ہوگی، پھر ایسا ہی واقعہ ہوا، فی الفور شفا ظاہر ہوئی اور کوئی مرض باقی نہ رہا۔ چند ماہ بعد جب ماہِ جمادی الاخر آیا، مرض نے پھر عود کیا اور تخفیف نہ ہوئی، اسی اثنا میں ایک پھوڑا سر کے پیچھے نکلا اور رفتہ رفتہ بڑھتا رہا یہاں تک کہ 28 ماہِ مذکور قبل صبح روزِ دوشنبہ اس جہانِ فانی سے رخصت پا کر رفیقِ اعلیٰ سے جا ملے۔ 1160ھ میں وفات، "داخل جنت" سے تاریخ نکلتی ہے۔
