Jumu'ah, 23 Rabi' al-Awwal 1448 AH
Support Al-Falah Welfare

تذکرۃ الصالحین از قریۃ الصالحین: حضرت شاہ محمد عاشق صدیقی پھلتی

شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے خلیفہ اعظم کا تذکرہ

تذکرۃ الصالحین از قریۃ الصالحین: حضرت شاہ محمد عاشق صدیقی پھلتی
تذکرۃ الصالحینسلسلہ علمی و روحانی مضامین

تذکرۃ الصالحین از قریۃ الصالحین: حضرت شاہ محمد عاشق صدیقی پھلتی

شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے خلیفہ اعظم کا تذکرہ

حضرت شاہ محمد عاشق صدیقی بن شاہ عبید اللہ صدیقی بن عارف باللہ شیخ کامل اکمل شیخ محمد صدیقی بن شاہ محمد عاقل صدیقی بن شاہ ابو الفضل صدیقی بن شاہ ابوالفتح صدیقی بن شیخ فرید اول بن شیخ محمد بن قاضی محمد یوسف صدیقی ناصحی بخاری۔ آپ کاملین میں سے اعلیٰ درجے پر فائز، اللہ کی معرفت سے لبریز، علم و عمل میں آگے بڑھے ہوئے، حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کے ماموں کے بیٹے، ان کے خلیفہ اعظم، ان کے بچوں کے استاد، حضرت شاہ ولی اللہ کے علم و عرفان کا مظہر اور ان کی ذات کا آئینہ تھے۔ آپ کی ولادت 10 رمضان 1110ھ میں ہوئی، "محمد غازی" سے تاریخ نکلتی ہے۔

نانا نے آپ کو اپنی فرزندگی میں لے کر تربیت شروع کی، پھر جب پڑھنے کے قابل ہوئے تو ایک دو پارے قرآن پڑھے اور اپنے نانا شیخ عبدالوہاب سے، جو رشتہ داروں میں سب سے بزرگ تھے، قرآن پڑھا۔ وہ حضرت شاہ عبدالرحیم کے اصحاب میں سے تھے اور خطِ نسخ میں استاد تھے، پورا قرآن اور نصابِ تعلیم فرمایا۔ اس کے بعد رسالہ میزانِ صرف اور نصف کتاب بوستانِ سعدی اپنے جدِ اکمل العارفین الاعظم باللہ الصمد حضرت شیخ محمد قدس سرہ سے پڑھی، اور تمام ابتدائی معقول و منقول شرح حضرت قبلہ آگاہی معدنِ برکت قدوۃ الاولیاء حضرت شیخ عبید اللہ صدیقی، والد صاحب کی خدمت میں استفادہ کی، اور کچھ کتابیں قدوریٰ و کافیہ و شرح حضرت چچا عمدۃ الواصلین عارف باللہ شاہ حسیب اللہ صدیقی پھلتی سے پڑھیں۔ اس کے بعد بیعت حضرت عارف باللہ حضرت مولانا شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کے ہاتھ پر ہوئی۔

حضرت شاہ حسیب اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے آپ پر بہت توجہ فرمائی، بارہا ان کے حلقہ مراقبے میں شریک ہوئے اور ان کی توجہ سے حقائق اور معارفِ خاصہ حاصل ہوئے۔ حضرت مبارک شیخ امام الطریقت قطب الحقیقت شاہ عبدالرحیم کی خدمت میں بہت بار فیضیاب ہوئے، درس اور حقائقِ معارف کے بیانات کی مجلسوں میں شرفِ حضوری سے مشرف ہوئے، حلقہ مراقبہ میں بارہا باریاب ہو کر سعادت اندوز ہوئے، اور حضرت کے مرضِ وصال میں بھی ہمہ وقت شرفِ حضوری سے مشرف رہے۔ بعض اوقات آپ کی توجہ حضرت مولائے مرشد شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کی شرفِ صحبت سے مشرف ہوتی، حضرت شیخ بزرگ کی توجہ سے آپ کو روحانی ترقی نصیب ہوئی۔

شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ سے بیعت فرمائی تو آپ سے بڑی بڑی کتابیں یعنی شرحِ تجرید، معاشی، حاشیہ قدیم و شمس، بازغہ، محکم الاصول، وافق المبین کا استفادہ کیا، ان سے بعض کتابیں قرأت پڑھیں اور بعض سماعاً، اور ہر ایک سے بمقدارِ چند اجزا صحیح مسلم بھی پڑھے، اور مکہ معظمہ میں بیت اللہ الشریف میں بطور تبرک تفسیرِ بیضاوی، سورہ فاتحہ کی تفسیر تبرکاً حضرت سے پڑھی۔ مشہور کتاب "حجۃ اللہ البالغہ" کا انتساب حضرت نے حضرت شاہ محمد عاشق رحمۃ اللہ علیہ کے نام فرمایا۔ آپ کی تالیف کردہ کتابوں میں "القول الجلی ذکر فی آثار الولی" اور "سبیل ارشاد" مشہور کتابیں ہیں، باقی کتابیں ناپید ہیں۔

حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ نے آپ کو طریقِ صوفیہ میں سلسلہ اجازت عطا فرمائی، اور آپ تحریر فرماتے ہیں: "میں نے ان کو خرقہ صوفیہ اجازتِ لباس اور اس کی خصوصیت کے ساتھ پہنایا جس طرح میرے والد نے مجھے پہنایا اور مجاز کیا، نیز جیسا کہ مجھے شیخ ابو طاہر کردی مدنی نے خرقہ پہنایا، الحمدللہ دونوں کے خرقے اولیاء اللہ کے تمام خرقوں کو گھیرے ہوئے ہیں، اور میں نے ان کو اجازت دی کہ وہ لوگوں کو ان اشغالِ صوفیہ کی تلقین کریں جو انہوں نے مجھ سے سماعت کیے یا نہیں کیے، اور الحمدللہ ان لوگوں میں سے ہیں جن کے لیے سلسلے میں اجتہاد مسلم ہے اور ان کی فراست پر بھروسہ کرنا جائز ہے، نیز قلوب پر تصرف کریں، حدیث تفسیر و فقہ کا درس دیں، اور تمام علوم جو انہوں نے مجھ سے اخذ کیے ہیں یا حرمین شریفین کے مشائخ سے اخذ کیے ہیں، میرے ساتھ شریک رہے، ان سب پر اللہ کی رحمت ہو۔ نیز یہ کہ وہ لوگوں سے بیعت لیں اور ان کو خرقہ پہنائیں، میں نے ان کو اس سند کی روایت کرنے کی اجازت دی جو میں نے ان سے بیان کی اور وہ علومِ مختلفہ جو انہوں نے مجھ سے پڑھے یا نہیں پڑھے، اور وہ کثیر ہیں۔ اسی طرح میں نے اجازت دی ہر اس شخص کو جو میرے علوم کو ان کی ذریت سے یکے بعد دیگرے نشر کرے، اور میں نے ان کے اصحاب میں سے صالحین اور ان کی ذریت کو من جانب اللہ ان کے سپرد کر دیا اور وہ اللہ کے پاس میری امانت ہیں، مجھے امید ہے کہ اللہ میری امانت کی حفاظت فرمائے گا اور میرے ترکے کو باقی رکھے گا اور ان کو روشن اور بلند راستے پر گامزن رکھے گا، تنبیہاتِ قویہ جو لوگوں کے دلوں کو تصفیہ کرنے والی ہیں ان کے ذریعے قائم رہیں گی اور ان کو نبی کے دین کی اشاعت اور روایتِ حدیث کی توفیق عطا فرمائے گا اور اپنی حمایت و عنایت سے اہلِ قرآن کو ان کے ذریعے ہدایت دے گا۔"

آپ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کے سفر و حضر میں شریک رہے، اور سات بار حضرت کے ساتھ چلوں میں شریک ہو کر اعتکاف فرمایا۔ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی اکثر رمضان کے چلے میں اعتکاف کے لیے پھلت آ کر فرماتے تھے۔ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے مکتوبات آپ کے بیٹے عبدالرحمن نے اکٹھے کیے تھے، پھر ان کا انتقال ہو گیا، جو بعد میں چھپ کر "نادر مکتوبات" کے نام سے منظرِ عام پر آ چکے ہیں۔ چنانچہ آپ اپنے والد صاحب شیخ عبید اللہ اور حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ سفرِ حج پر روانہ ہوئے، وہاں شیخ المحدثین امام العارفین حضرت شیخ ابو طاہر کردی مدنی سے استفادہ حاصل فرمایا اور شاہ صاحب کے ساتھ اپنے والد صاحب کے ساتھ 1143ھ میں احادیثِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت سے مشرف ہوئے۔

آپ کے شاگردوں میں حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی، حضرت شاہ رفیع الدین محدث دہلوی، شاہ عبدالقادر محدث دہلوی، شاہ ابو سعید بریلوی (نانا سید احمد شہید)، آپ کے فرزند اور خلیفہ شاہ محمد فائق صدیقی پھلتی، اور قصبہ پھلت کے بہت سے علماء، صلحاء اور صوفیا شامل ہیں۔ حضرت شاہ رفیع الدین محدث دہلوی نے آپ سے سلوک طے کیا اور خلافت سے سرفراز ہوئے۔ حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی اپنے والد صاحب کے بعد آپ سے رجوع فرماتے تھے۔ شاہ ابو سعید بریلوی حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے وصال کے بعد آپ کی طرف متوجہ ہوئے اور خلافت سے سرفراز ہوئے، جن کے ذریعے ولی الہٰی فیض شاہ کاظم قلندری کاکوروی تک پہنچا۔

حضرت اقدس شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے حضرت شاہ محمد عاشق صدیقی پھلتی رحمۃ اللہ علیہ کے نام جو مکتوب لکھا اس میں فرماتے ہیں: "الحمدللہ والسلام علی عباد اللہ الذین اصطفیٰ، اما بعد، ہمارے بھائی شیخ محمد عاشق جن کے ظاہر و باطن پر اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتیں ہیں اور میں ان کا شمار نہیں کر سکتا، ان میں سے یہ بھی ہے کہ وہ ولادت کے وقت سے لے کر اب تک دنیا میں متقی اور پرہیزگار اور وصول الی اللہ کے طریقے کے شائق رہے ہیں، مجھے یاد نہیں کہ میں نے بدرِ شعور ان کے متعلق کوئی ایسی بات سنی ہو جو ان کی رغبتِ مال و منال اور لذاتِ حسیہ و خسیہ پر دلالت کرتی ہو، بلکہ ابتدائی عمر ہی سے ان کی ہمت اور دانشمندی کا حال یہ تھا کہ وہ اس مقام پر فائز ہو جائیں جس کی جانب ان کی استعدادِ فطری کھینچ رہی تھی، پھر ایک وقت ایسا آیا کہ لطفِ ازلی نے ان کو اس جانب کھینچ لیا، اور من جملہ ان کے یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو خانۂ ولایت میں پیدا فرمایا اور مشائخ کی نظرِ عنایت ان پر مبذول فرمائی، اور میرے والد ماجد اور ان کے اپنے والد ماجد اور عمِ محترم کی کس قدر التفاتِ عنایت ان کے ساتھ شامل حال رہی۔ من جملہ ان کے یہ بھی ہے کہ اللہ نے ان کو مادری و روحانی باپوں کے ساتھ نیکی کرنے والا بنایا نہ کہ ان کے ساتھ جھگڑنے اور نافرمانی کرنے والا، ان کا قول و فعل، زبان و قلب اس سلسلے میں مساوی ہیں، ان کو کتاب و سنت کا علم عطا ہوا، نیز جس شخص نے ان کی اتباع کی اس نے اسے بطورِ سنت خود پر لازم کر لیا۔ من جملہ ان کے یہ بھی ہے کہ میرے اور ان کے درمیان محبت فی اللہ رکھی گئی اور ہم سب میں اس کے احکام و اسرار جاری ہوئے، الحمدللہ ہم حب اللہ میں باہم محبت کرتے ہیں، اسی میں کامیابی، اسی پر ہم مجتمع اور متفق ہوئے اور ہمیں اس کے بے شمار فوائد حاصل ہوئے۔ من جملہ ان کے یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو سلوک و طریقت، فنا فی اللہ اور بقا باللہ کی توفیق عطا فرمائی، پس انہوں نے عجائب و غرائب مشاہدے کیے، نیک و بد کی تلاش و جستجو کی اور اس کے نشیب و فراز میں سیر کی۔ من جملہ ان کے ایک یہ بھی ہے کہ انہیں حج بیت اللہ اور نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام کی زیارت کی توفیق ہوئی اور ان کے حج کو محض عام لوگوں کا حج نہیں بلکہ اپنے رب کی طرف ایک دلیل بنایا۔ ایک اور بات یہ کہ ان کی چشمِ بصیرت کھل گئی اور اللہ کی کتاب و سنت کے اسرار ان پر کشف ہوئے، جن تک سابقین میں سے اکثر لوگوں کی رسائی نہ ہوئی اور بہت سے لائقین اس سے محروم رہیں گے۔ من جملہ ان کے یہ بھی کہ ان کے لیے سرِ ارشاد کھول دیا گیا اور ارواحِ طیبہ کی عنایت کا آشیانہ بنا دیا گیا، ان کے وجودِ مسعود سے لوگوں کو فائدہ ہوگا، اور یہ ایک راز ہے جس سے میں نے امرِ عظیم کا مشاہدہ کیا، مجھے اس سے بڑی ٹھنڈک ملی۔ اس کے علاوہ ان کے بہت سے اور بھی مناقب ہیں جن کی تشریح کے بیان سے میں عاجز ہوں اور اس بیان سے زبان قاصر ہے، اور میں یہ بات اللہ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ یہ اس مخلوق میں برگزیدہ ہستی ہیں اور اس زمین پر صاحبِ اسرار و انوار، صاحبِ نفحات ہیں، برکتوں کی کان ہیں، ترقی کرنے والوں میں سب سے سبقت کرنے والے، آفاق میں نادر عجوبۂ روزگار، صاحبِ صدق و یقین اور صاحبِ جنان ہیں، اولیاء کاملین میں کریم ابنِ کریم ابنِ کریم، جیسے حضرت یوسف صدیق علیہ السلام ہمارے انبیاء کی شہادت کے مطابق انبیاء علیہم الصلوٰۃ میں کریم ابنِ کریم ابنِ کریم ہیں، اور میرے اسرار کے مخزن اور میرے انوار کے حامل ہیں، ان کا ہاتھ میرا ہاتھ ہے، ان کی صحبت میری صحبت، ان کے اقوال و افعال دراصل میرے اقوال و افعال ہیں، ان کی رضا اور کشف و وجدان میری رضا اور کشف و وجدان ہیں۔"

آپ کے دو بیٹے تھے: شاہ محمد عبدالرحمن اور شاہ محمد فائق صدیقی پھلتی، یہ دونوں صاحبزادے حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کی بیٹیوں سے منسوب تھے۔ شاہ عبدالرحمن کا جوانی میں انتقال ہو گیا تھا، آپ کی ایک بیٹی حضرت شاہ ولی اللہ کے بڑے بیٹے شیخ محمد ولی اللہ سے منسوب ہوئی تھی۔ 1174ھ میں آپ کا انتقال ہوا۔ اللہ تعالیٰ حضرت کے فیض کو ہمارے سینوں پہ جاری و ساری فرمائے۔

فقیر کو حضرت کی نسبت دادا جی حضرت مولانا علاؤ الدین رحمۃ اللہ علیہ کے ذریعے پہنچی ہے۔ جیسا کہ حضرت شاہ عبید اللہ صدیقی پھلتی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے کہ ہمارا سلسلہ تا قیامِ قیامت جاری و ساری رہے گا، اس کی یہ ظاہری تصویر ہے۔ اور حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ یہ سلسلہ تا قیامِ قیامت رہے گا اور جیسے اللہ چاہے گا ویسے پھلے پھولے گا، اور حضرت کی عیال اور خاندان کے لوگوں میں اس کا ظہور ہوگا۔ مراقبے میں حضرت سے ملاقات رہی، اجازت اور خلافت سے مستفید ہوا ہوں، الحمدللہ ثم الحمدللہ۔