تذکرۃ الصالحین از قریۃ الصالحین: حضرت شیخ المحدثین شاہ عبدالقیوم صدیقی محدث بھوپالی
ولادت، تعلیم، سلسلۂ اسناد، جہادِ بالاکوٹ، منصبِ افتاء اور وصال کا تذکرہ
حضرت شیخ المحدثین شاہ عبدالقیوم صدیقی محدث بھوپالی بن مولانا عبدالحئی بن ہیبت اللہ بن شاہ نور اللہ پھلتی بن مولانا شاہ معین الدین اجمیری بن مولوی ابو سعید بن علی محمد بن محمد فاضل بن مولوی عبدالرحمن بن شیخ فرید اول بن شیخ محمود بن قاضی محمد یوسف ناصحی صدیقی۔ آپ ان لوگوں میں سے ہیں جن کے لیے سعادتِ ازلی پہلے ہی لکھی جا چکی ہوتی ہے، اور آپ کو وہ نسبی تعلق حاصل ہوا جو انسان کو سعادت سے محروم نہیں کرتا۔
آپ کے والد ماجد کا نام مولانا عبدالحئی بڑھانوی تھا، جو حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی کے خاص شاگرد، عزیز داماد اور رشتے کے بھتیجے تھے۔ شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی، شاہ نور اللہ پھلتی کے داماد تھے۔ آپ کے دادا کا نام ہیبت اللہ صدیقی اور پردادا کا نام عارف باللہ حضرت مولانا شاہ نور اللہ صدیقی پھلتی تھا، جو حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے خلیفۂ مجاز، اپنے وقت کے کاملین میں سے اور شاہ صاحب کے مخصوص اصحاب میں ایک اہم شخصیت تھے۔ حضرت شاہ نور اللہ، شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی کے فقہ میں استاد تھے، اور شاہ نور اللہ کے والد حضرت مولانا معین الدین اجمیری، حضرت شاہ عبدالرحیم دہلوی کے اصحاب میں سے تھے۔
آپ 1231ھ میں پیدا ہوئے، شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی نے آپ کا نام "غلام نقی" رکھا۔ ابتدائی تعلیم اور حفظِ قرآن کی سعادت والد بزرگوار کے زیرِ سایہ حاصل کی۔ جب آپ نے دینی تعلیم کا آغاز فرمایا تو حضرت سید احمد شہید رحمۃ اللہ علیہ کی دعوتِ تجدید کا آغاز ہو چکا تھا۔ سید صاحب 1230ھ میں تکمیلِ سلوک فرما کر وطن تشریف لے گئے تھے، اور شاہ عبدالقادر نے بیعت کے وقت ہی ان کی کمالِ روحانی ترقی کی بشارت اور تعلیمِ ظاہری کی عدمِ ضرورت کا اظہار فرمایا تھا۔
سید صاحب شاہ صاحب کی اجازت سے اولاً ٹونک تشریف لے گئے، مگر جو خوش آئند توقعات اسلامی انقلاب کے سلسلے میں وہ لے کر وہاں پہنچے تھے وہ امیر محمد خان والیِ ٹونک کی انگریزوں سے صلح کر لینے کے بعد پوری نہ ہوئیں، اس لیے وطن واپس آ گئے۔ کچھ عرصے بعد دہلی پہنچ کر شمالی یو پی کا مشہور دورہ تجویز فرمایا۔ دہلی اس وقت ولی الہٰی تحریک کا گہوارہ تھا، شاہ عبدالعزیز نے اپنے متعلقین کو ہدایت نامے بھیجے اور رخصت کے وقت سید صاحب کو ملبوسِ خاص عنایت فرما کر روانہ کیا۔ مفتی عبدالقیوم صاحب کا بچپن سید صاحب کی تحریک کے اندر گزرا اور بارہا آپ سید احمد شہید کی صحبت سے مستفید ہوتے رہے۔
ابتدائی تعلیم کی تکمیل کے بعد آپ سراج الہند کے مسند نشین شیخ الآفاق حضرت شاہ محمد اسحاق صاحب کے پاس تعلیم و تربیت کے لیے تشریف لے گئے اور وہیں تکمیل فرمائی۔ شاہ محمد اسحاق رحمۃ اللہ علیہ نے آپ کو اجازتِ سلاسل سے بھی معزز فرمایا اور بعد از تعلیم اپنی عالمہ فاضلہ صاحبزادی امت الغفور سے عقد کر کے حلقۂ فرزندی میں لے لیا۔ حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی کا سرچشمۂ فیض حضرت شاہ اسحاق سے جاری ہوا تھا۔
آپ نے اپنے خسر شاہ محمد اسحاق کی زیرِ نگرانی تعلیم مکمل کی۔ صرف و نحو، عقائد و منطق کی تعلیم نصیر الدین شافعی دہلوی، نواسۂ شاہ رفیع الدین سے حاصل کی، بعض درسی کتب مولانا نصیر الدین لکھنوی سے پڑھیں، تفسیرِ جلالین، ابن ماجہ، نسائی اور علمِ فرائض شاہ یعقوب دہلوی سے تکمیل فرمائی، اکثر صحاح مولوی سید محبوب دہلوی، شاگردِ شاہ عبدالعزیز سے پڑھیں، ہدایہ کا کچھ حصہ مفتی سید مراد علی سے پڑھا، اور باقی فقہ، بخاری شریف، بیضاوی، مدارک، درِ منثور، صحاحِ ستہ، القول الجمیل، حزب البحر، حصنِ حصین، مستدرکِ حاکم، دارقطنی اور دارمی سب کچھ شیخ الآفاق سے پڑھا۔ حسبِ ضابطۂ مشائخ شاہ محمد اسحاق سے عام اجازت، سلسلۂ اسناد اور خرقۂ خلافت سے شرف اندوز ہوئے، نیز مولانا شاہ یعقوب دہلوی سے بھی چاروں سلاسل میں بیعت اور اذکار و اشغال کی اجازت حاصل ہوئی۔
فراغتِ تعلیم کے بعد آپ اپنے والد ماجد مولانا عبدالحئی کے ساتھ جہادِ بالاکوٹ کے لیے تشریف لے گئے۔ مقامِ خیر (کھیڑ) میں قیام کے دوران والد صاحب کو مرضِ بواسیر کا شدید دورہ ہوا اور اسی تکلیف میں ان کا انتقال ہو گیا۔ سید صاحب موجود تھے، انہوں نے مولانا عبدالقیوم کو فرطِ شفقت سے سینے سے لگایا اور تسلی دی، اس وقت آپ کی عمر تیرہ چودہ سال کی ہوگی۔ مولانا عبدالحئی کی وصیت کے مطابق آپ کو ان کے ماموں شیخ جلال الدین پھلتی اور صلاح الدین پھلتی کے ہمراہ وطن واپس بھیج دیا گیا۔ سید صاحب آپ کے ساتھ بہت محبت و پیار کا برتاؤ فرماتے، اپنے ساتھ بٹھاتے اور کھانا کھلاتے تھے۔
واقعۂ شہادتِ بالاکوٹ کے بعد مولانا عبدالقیوم، سید صاحب کی اہلیہ محترمہ اور متعلقین کے ساتھ ٹونک واپس ہوئے۔ نواب وزیر الدولہ نے مجاہدین کے لیے ایک مستقل محلہ "قافلہ" کے نام سے آباد کیا۔ مولانا کچھ دن ٹونک ٹھہر کر حجازِ مقدس روانہ ہوئے، وہاں شاہ اسحاق اور شاہ یعقوب سے مستفید ہو کر واپس آئے۔
قیامِ بھوپال اور منصبِ افتاء: مفتی عبدالقیوم صاحب حجاز سے واپس آ کر 1260ھ میں بھوپال تشریف لائے۔ نواب سکندر جہاں بیگم آپ کی خاندانی نسبت اور کمالات کی وجہ سے بہت خوش ہوئیں، مدارالمہام کی جانب سے بھوپال میں قیام کی دعوت دی گئی اور عہدۂ افتاء کی پیشکش کی گئی، چنانچہ آپ نے اسے قبول فرمایا اور کچھ عرصہ فرائضِ افتاء سرانجام دیے، پھر ریاستی مصالح کی خاطر سبکدوش کر دیے گئے، جس کی حکایت مشہور و معروف ہے۔ سبکدوشی کے بعد بھی آپ کے اعزاز و احترام میں کوئی فرق نہ آیا اور آپ کو جاگیر سے نوازا گیا۔ نواب جہاں بیگم کا پہلا نکاح 1271ھ میں ہوا تو مولانا نے ہی خطبۂ نکاح پڑھا اور حسبِ دستورِ ریاست ایک موضع جاگیر بھی عطا ہوئی۔ وہ خود لکھتی ہیں کہ گیارہ ذی القعدہ کو مولوی عبدالقیوم، جو ایک ذی القدر اور درویش صفت عالم تھے، نے خطبۂ نکاح پڑھا اور دونوں جانب سے دھوم دھام کی دعوتیں ہوئیں۔
مولانا کی زادِ اصطفیٰ چشمۂ ہدایت بن گئی، ہزارہا طالبِ علم اور سالکانِ راہِ یقین اس چشمۂ صافی سے سیراب ہونے کے لیے دور دراز علاقوں سے بھوپال کا رخ کرتے۔ شاہ اسحاق کی خصوصی نسبت اور سندِ عالی کے حصول کے لیے ہندوستان، بلخ اور بخارا تک سے طلبہ و علماء آپ کی خدمتِ بابرکت میں حاضر ہوتے اور حضرت اپنے علوم و فیوض سے فیض یاب فرماتے۔ قرآن و حدیث کے علاوہ دوسرے علوم سے آپ سروکار نہ رکھتے۔ خواص کے ساتھ عوام کے لیے بھی آپ کا سرچشمۂ فیض جاری تھا، ولی الہٰی روایت کے مطابق منگل اور جمعرات کے دن مسجدِ حقیقت خان میں عام مخلوق کے لیے قرآنِ حکیم کا ترجمہ و تفسیر بیان فرماتے۔ آخری عمر میں آپ کی مجلس میں سوائے ترجمۂ قرآن و حدیث کے کچھ نہ ہوتا تھا۔
شاگرد: آپ کے حلقۂ درس سے بے شمار فضلا نکل کر چمکے، جن میں مولانا مفتی ایوب صاحب پھلتی جو قاضیِ ریاست ہوئے، مولانا محمد احسن مترجمِ درِ مختار، مولوی بدیع الزمان، مسیح الزمان اور مولوی وحید الزمان حیدرآبادی، مولانا گل محمد پشاوری، مولانا عبدالجبار ناگوری ثم بھوپالی، مولانا ذوالفقار احمد بھوپالی اور مولانا خلیل احمد محدث سہارنپوری (1293ھ) شامل ہیں، اور بہت سے لوگوں نے آپ سے سندِ حدیث حاصل کی۔
حضرت مولانا فراستِ یمانی سے بہرہ ور تھے اور بالخصوص تعبیرِ خواب کے امام تھے، جو تعبیر فرماتے بعینہٖ وہی واقعہ عالمِ ظہور میں آتا، ایسا معلوم ہوتا کہ واقعہ چشمِ خود دیکھ کر بتا رہے ہیں۔ بقولِ مولانا عبدالحئی حسنی، یہ بات انہی پاکیزہ نفوس کو میسر آتی ہے جن کا آئینۂ روح ہر طرح کی پست خواہشات اور گری ہوئی شہوات سے پاک ہوتا ہے۔ حضرت کی کرامات و خوارقِ عادت خواص و عام میں مشہور ہیں۔
خلاصہ یہ ہے کہ مولانا مرحوم علم و حلم، تواضع و انکساری، خندہ روئی، حق گوئی اور راست بازی میں اپنے اسلاف کے قدم بقدم تھے اور ولی الہٰی نسبت کی آخری نشانی تھے۔ ان کے عقیدے اور عمل میں کبھی حالاتِ زمانہ نے لچک پیدا نہ کی اور نہ ان کا سر کسی آستانے پر جھک سکا، ایمان و استقامت کے کوہِ گراں اور افادہ و فیضان کے بحرِ بے کراں تھے۔ مولانا اپنے عزیز و اقارب کے حقوق کی ادائیگی کے لیے دو چار سال بعد پھلت اور بڑھانہ تشریف لے جاتے تھے۔
نواب محمد علی والیِ ٹونک، جن کو برطانوی سامراج کی سیاسی مصلحت نے معزول کر کے بنارس میں نظر بند کر رکھا تھا، اور نواب وزیر الدولہ کا پورا خاندان ولی الہٰی خانوادے کا ہمیشہ معتقد رہا۔ چنانچہ نواب محمد علی نے از راہِ عقیدت مولانا سے استدعا کی کہ بنارس تشریف لا کر دورۂ بخاری کی تکمیل کرائیں۔ نواب مرحوم کا مشغلہ اس وقت علمی و دینی رہ گیا تھا، چنانچہ انہوں نے شیخ نور الحق، خلفِ شیخ عبدالحق دہلوی کی "تیسیر القاری" شرحِ بخاری کا فارسی متن طبع کرایا تھا۔ مولانا بھوپال سے بنارس پہنچ کر کچھ عرصہ وہاں قیام فرمایا۔
وصال: بڑھانہ روانہ ہوئے تو وہاں پہنچ کر سواری سے گر گئے، بظاہر معمولی چوٹ آئی لیکن یہی اندرونی صدمہ بالآخر مرض الموت کا سبب بنا۔ تاریخِ وفات 1299ھ ہے، وہ سال عامُ الحزن رہا اور بھوپال میں سرکاری طور پر سوگ منایا گیا۔ مفتی صاحب کے حالاتِ زندگی "مقالاتِ طریقت" نامی کتاب میں موجود ہیں، جو فقیر راقم الحروف کے پاس موجود ہے۔
مفتی عبدالقیوم صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو خاندانی شجروں کی نگہداشت کا بہت اہتمام رہا۔ فقیر کے پاس جو شجرہ موجود ہے اس کی آخری تجدید حضرت ہی نے فرمائی تھی، جس میں شجرے کی تحصیل، اغلاط کی درستگی، تاریخی واقعات کو قلم بند کرنا اور اس میں توسیع سب شامل ہے، اور یہ حضرت کا احسان ہم پر موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کی قبر کو نور سے بھر دے اور حضرت کے فیض سے اس فقیر کے سینے کو منور فرمائے، اللہم آمین بحرمۃ یا رحمن یا رحیم۔
