Jumu'ah, 23 Rabi' al-Awwal 1448 AH
Support Al-Falah Welfare

تذکرۃ الصالحین از قریۃ الصالحین: حضرت مولانا قاضی محمد ایوب صاحب پھلتی

ولادت، اساتذہ، اسنادِ حدیث، منصبِ افتاء و قضا اور شاگردوں کا تذکرہ

تذکرۃ الصالحین از قریۃ الصالحین: حضرت مولانا قاضی محمد ایوب صاحب پھلتی
تذکرۃ الصالحینسلسلہ علمی و روحانی مضامین

تذکرۃ الصالحین از قریۃ الصالحین: حضرت مولانا قاضی محمد ایوب صاحب پھلتی

ولادت، اساتذہ، اسنادِ حدیث، منصبِ افتاء و قضا اور شاگردوں کا تذکرہ

حضرت مولانا قاضی محمد ایوب صاحب پھلتی بن حکیم فخر الدین بن حکیم مولوی محمد انور بن قمر الدین شہید صدیقی۔ آپ کا تعلق قصبہ پھلت کے خاندانِ ولی الہٰی سے تھا اور آپ حضرت مولانا قاضی مفتی یوسف صاحب صدیقی پھلتی ناصحی کی اولاد میں سے ہیں۔ حضرت مولانا مفتی شاہ عبدالقیوم صدیقی آپ کی خالہ کے بیٹے تھے۔ آپ کی کنیت ابو البصر تھی اور ولادت 1241ھ تا 1244ھ کے درمیان قصبہ پھلت میں ہوئی۔

ابتدائی تعلیم گھر میں حاصل کی، پھر مظفر نگر کے مشہور مصنف علامہ حکیم محمد نصر اللہ خورجوی سے، جو مشہور فقیہ اور صوفی تھے، تعلیم پائی۔ علوم و فنون کی تکمیل مولانا احمد علی عباسی چڑیا کوٹھی سے اور علمِ طب حکیم منصور علی نجیب آبادی سے حاصل کیا، پھر شاہ عبدالرحیم لوہاری سے بیعت کی۔ حکیم نصر اللہ صاحب صاحبِ تصانیفِ کثیرہ تھے، جیسے الارشاد البلید فی اسبابِ تخلیق، شرح خلاصۂ گیلانی اور شرح اربعیاتِ یوسفی وغیرہ۔

نصر اللہ جیسے فاضل و کامل استاد سے علمی تحصیل کے بعد آپ کی علمی تشنگی نے صدائے "ھل من مزید" لگائی، اس لیے مرکزِ علم دہلی کا سفر کیا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب شیخ الآفاق حضرت شاہ محمد اسحاق مہاجر مدنی ہجرت کی تیاری فرما رہے تھے اور آپ کی تعلیمی سرگرمیاں آخری بہار دکھا رہی تھیں، چنانچہ قاضی صاحب شاہ صاحب کی مجالس میں اکثر حاضر رہتے اور بعض کتب تبرکاً ان سے پڑھیں۔ دہلی میں اس وقت استاد مولانا مملوک علی نانوتوی کا سرچشمۂ فیض زور و شور سے جاری تھا، نیز شاہ احمد سعید مجددی، شاگردِ مولانا عبدالحئی پھلتی، اور مولوی رشید الدین خان کی مستقل درسگاہیں تھیں جہاں ہر طالبِ علم و شائقِ فیضان فیض یاب ہوتا تھا۔ قاضی ایوب صاحب نے ان بزرگوں سے تحصیلِ علمی کی۔ آپ کے اساتذہ میں محمد علی اکبر اور محمد علی اصغر ساکنانِ سونی پت بھی تھے، اور علامہ حکیم نواب صاحب سے طب و حکمت کی تکمیل کی۔ بیعت و طریقت شاہ محمد یعقوب مہاجر مدنی سے فرمائی اور اجازت سے مشرف ہوئے۔

قیامِ بھوپال: قاضی محمد ایوب صاحب مولانا عبدالقیوم کے کچھ دنوں بعد 1262ھ میں بھوپال تشریف لائے اور مدرسۂ اخوانِ ریاست میں مدرس ہوئے، جہاں مولانا حبیب اللہ خان پوری بھی ایک مدرس تھے۔ ابتدا میں مولانا عبدالقیوم کے مکان کے شرقی دالان میں ٹھہرے، پھر رابعہ بی بی کی حویلی میں سکونت اختیار کی۔ نواب جہاں بیگم نے قاضی ایوب صاحب کو اتالیقی کا اعزاز بخشا اور فارسی کی تعلیم ان کے ذمے کی گئی۔ جب قاضی زین العابدین یمن سے آ کر قائم مقام قاضی ہوئے تو مولانا ایوب نائب قاضی بنائے گئے۔ اس وقت دارالقضا میاں خیر الدین کے محرابی دروازے کے بالا خانے پر تھا، پھر مدارالمہام نے اپنی بڑی صاحبزادی زکیہ بیگم کے لیے مکان خرید کر تعمیر کرایا تو باہر کے مغربی دالان میں دارالقضا قائم کیا گیا، اس کے بعد قاضی زین العابدین نے سبزی منڈی میں مکان بنوایا تو وہاں منتقل ہو گیا۔

اس کے بعد مولانا یوسف مہتممِ مدرسہ سلیمانیہ اور مولانا سید اکبر علی نائب مہتمم ہوئے، پھر مولانا ایوب صاحب کو مفتیِ ریاست بنایا گیا اور مولانا سید انور علی مدرسہ سلیمانیہ کے مدرس اور مولوی الٰہی بخش مہتمم بنائے گئے۔ مفتی محمد ایوب صاحب فتویٰ نویسی کی خدمات بحسن و خوبی انجام دیتے رہے۔ قاضی زین العابدین کے بعد قاضی بشیر احمد قنوجی اور شیخ محمد محدث مچھلی شہری فرائضِ قضا انجام دیتے رہے، شیخ محمد محدث مستعفی ہو کر چلے گئے تو قاضی ایوب صاحب قاضی ہوئے۔ آپ کا دورِ قضا اور افتاء دونوں کامیاب رہے اور آپ کی علمیت، قابلیت، دیانت اور امانت کو ہر سطح پر تسلیم کیا گیا۔

بفضلِ الٰہی دو مرتبہ زیارتِ حرمین شریفین کی سعادت حاصل کی اور وہاں کے مشہور محدثِ عصر شریف محمد بن ناصر بن حسین خوارزمی کی خدمت میں حاضر ہو کر اوائلِ کتب سنا کر اجازتِ عامہ حاصل فرمائی۔ مشہور ہے کہ قاضی ایوب کو سات بار دورۂ حدیث مستقل پڑھنے کا اتفاق ہوا، اس بنا پر اس سرچشمۂ علوم و فنون کی طرف تشنگانِ دین کا رجوع ہوا اور بھوپال و بیرونِ بھوپال کا جمگھٹا آپ کے کاشانے پر موجود رہتا۔ یمن کی سندِ عالی کی بنا پر علمائے اہلِ حدیث بھی آپ کی طرف رجوع کرتے تھے۔

چنانچہ آپ سے علمِ حدیث حاصل کرنے کے لیے سید برکات احمد ٹونکی، جو خیرآبادی خاندان کے آخری چشم و چراغ عبدالحق خیرآبادی کے شاگرد اور رشتے میں آپ کی اہلیہ کے بھانجے تھے، تشریف لائے۔ نیز مولانا نصیر احمد خلفِ شیخ ولی محمد پھلتی سالارِ لشکرِ سید احمد شہید، مولوی فیض محمد پھلتی اور مولوی خلیل الرحمن بھی 1313ھ میں بھوپال تشریف لائے، قاضی صاحب نے انہیں اپنے یہاں ٹھہرایا۔ اوقاتِ قضا کے علاوہ شبانہ روز حدیث کا درس تحقیقی طور پر ہوتا رہتا تھا۔ حکیم برکات احمد ٹونکی صاحب نے کل آٹھ ماہ میں صحاحِ ستہ کی تکمیل فرمائی اور وطن واپس ہوئے، عمر بھر منطق اور فلسفے کا درس دیتے رہے مگر آخری عمر میں رنگِ حدیث غالب آیا۔

وفات: قاضی محمد ایوب کی وفات 29 جمادی الثانی 1315ھ شبِ پنجشنبہ بمقام بھوپال ہوئی۔ قاضی مفتی محمد یحییٰ اور حافظ محمد قاسم آپ کی اولادِ نرینہ تھے۔ قاضی یحییٰ صاحب پھلت گئے ہوئے تھے، اطلاع پر دوسرے دن بھوپال پہنچے، تمام سرکاری دفاتر بند کر دیے گئے۔ تاریخِ وفات "غفر لہ" سے نکلتی ہے۔

شاگرد: آپ کے مشہور شاگردوں میں شاہ ابو احمد مجددی بھوپالی، آپ کے بیٹے قاضی محمد یحییٰ، مولانا محمد یوسف صدرِ مجلس العلماء، مولانا قاری مفتی عبدالہادی، مولوی سید خلیل الرحمن مفتی ٹونک، مولوی حکیم سید برکات احمد ٹونکی، مولوی حافظ عبدالعزیز چراغ بھوپالی اور خود عالیہ جناب سلطان جہاں بیگم بھی شامل تھیں۔

آپ کا اپنے ہم عصر علماء سے بہت اچھا تعلق تھا اور اولیاء اللہ سے بھی محبت رکھتے تھے۔ چنانچہ ایک شخص جو بھوپال سے تعلق رکھتے تھے، حرم میں حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رحمۃ اللہ علیہ سے ملے، ان پر غیر مقلدین کا اثر تھا لیکن حضرت سے بیعت ہوئے۔ حضرت نے فرمایا کہ بھوپال جائیں تو حضرت قاضی مفتی ایوب صاحب سے رابطہ رکھیں تو میں بیعت کرتا ہوں، یہ واقعہ "ارواحِ ثلاثہ" میں موجود ہے۔ قاضی ایوب صاحب بھوپال میں خاندانِ ولی الہٰی سے دوسری شخصیت تھے جو قاضی اور مفتی مقرر ہوئے، اور آپ کو جاگیر عطا ہوئی جو والیِ بھوپال کی طرف سے نکاح پڑھانے کی خوشی میں ملی۔ تفصیلی حالات کتاب میں ملیں گے، انشاء اللہ۔