تذکرۃ الصالحین از قریۃ الصالحین: حضرت مولانا مفتی قاضی رضوان الدین صدیقی پھلتی
ولادت، تعلیم، تیس سالہ تدریس اور منصبِ قضا کا تذکرہ
حضرت مولانا مفتی قاضی رضوان الدین صدیقی پھلتی بن مولوی رفیع الدین جوش بن فہیم الدین بن حافظ نعیم الدین بن حافظ کریم الدین بن مولوی محمد نبی بن مولانا شاہ فقیر اللہ بن مولانا شاہ معین الدین اجمیری پھلتی بن مولوی ابو سعید بن علی محمد بن محمد فاضل بن مولوی عبدالرحمن بن شیخ فرید اول بن شیخ محمود بن قاضی محمد یوسف ناصحی صدیقی پھلتی۔ آپ قاضی محمد یحییٰ صاحب کے رشتے کے بھتیجے، داماد اور ہونہار شاگرد تھے۔
آپ 1307ھ بمطابق 1889ء میں اپنے وطن قصبہ پھلت میں پیدا ہوئے۔ تاریخی نام رضوان الہدیٰ رکھا گیا، مگر رضوان الدین کے نام سے مشہور و معروف ہوئے۔ عربی اور فارسی کی ابتدائی کتابیں اپنے والد صاحب سے پڑھیں اور مڈل اسکول کی تعلیم حاصل کی۔ قاضی محمد یحییٰ صاحب آپ کی غیر معمولی ذکاوت اور ذہانت دیکھ کر آپ کو بھوپال لے آئے، اس وقت آپ کی عمر سولہ سال تھی۔ درسِ نظامی کی اکثر کتابیں انہوں نے پوری پوری خود پڑھائیں اور مدرسہ احمدیہ میں عربی کا آخری امتحان دلوایا۔
اس زمانے میں مدرسہ احمدیہ دارالعلوم دیوبند کے ماتحت تھا، امتحانی پرچے وہیں سے آتے، جانچ بھی وہیں ہوتی اور نتیجہ بھی وہیں سے جاری ہوتا تھا۔ چنانچہ حافظ محمد احمد، خلفِ مولانا قاسم نانوتوی بانیِ دارالعلوم دیوبند، نے آپ کی بہت تعریف فرمائی اور آپ کی قابلیت کو خوب سراہا۔ اس کے بعد مولوی فاضل پنجاب یونیورسٹی کے امتحان میں بھی امتیازی حیثیت سے کامیابی حاصل کی، پھر فاضلِ طب کی سند طبیہ کالج بھوپال سے حاصل کی، اور انگریزی میں بھی بقدرِ ضرورت استعداد پیدا کی۔
اساتذہ: قاضی محمد یحییٰ رحمۃ اللہ علیہ کے علاوہ آپ کے اساتذہ میں مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی، مولانا عبدالاحد منطقی، مولانا عنایت اللہ علی گڑھی، حکیم عبدالقادر، حکیم محمد محسن اور مولانا محمد علی مدراسی شامل ہیں۔ شریکِ درس ساتھیوں میں مولانا عبدالحلیم صدیقی، مولوی محمود علی خان (شعبۂ آل انڈیا ریڈیو) اور علامہ ابراہیم خلیل وغیرہ تھے۔
قاضی محمد یحییٰ صاحب نے آپ کی سرپرستی فرمائی اور اپنی بڑی صاحبزادی آپ سے منسوب فرمائی، جن سے شادی ان کے انتقال کے تیرہ سال بعد ہوئی۔ دوسری شادی مولانا محمد علی مونگیری، بانیِ ندوۃ العلماء لکھنؤ اور خلیفۂ مجاز حاجی امداد اللہ مہاجر مکی، کی بڑی صاحبزادی سے ہوئی، جو آپ کی ننھیالی رشتہ دار بھی تھیں۔
درس و تدریس: مولانا رضوان الدین کی بیاضِ حیات کا سب سے بڑا عنوان درس و تدریس ہے۔ 1912ء میں اولاً مدرسہ سلیمانیہ، پھر مدرسۃ العلوم احمدیہ میں مدرس ہوئے اور آخر میں مسندِ صدارت کو رونق بخشی۔ تیس سال تک مختلف علوم و فنون کا درس دیا۔
منصبِ قضا: 1942ء میں نائب قاضی بنائے گئے اور قاضی محمد حسن اور علامہ سید سلیمان ندوی کی معیت میں خدماتِ قضا کو بحسن و خوبی انجام دیا۔ ریاست کے ضم ہو جانے کے بعد آپ کو قاضیِ ریاست تسلیم کیا گیا۔ آپ ایسی قابلِ قدر شخصیت تھے جس نے تیس سال درس و تدریس اور تیرہ سال قضا کی خدمات سرانجام دیں۔
وصال: آپ کا وصال شبِ عاشورہ 1375ھ کو ہوا اور خطۂ صالحین میں تدفین ہوئی۔ یادگار میں دو صاحبزادے نعمان الدین اور رضی الدین اور ایک صاحبزادی حمیرہ چھوڑیں۔ قاضی رضوان الدین کی ہمشیرہ مسمات عمرانہ فقیر کی دادی عثمان خاتون کی والدہ تھیں، یعنی میری دادی کے سگے ماموں قاضی رضوان الدین صاحب تھے۔
