Jumu'ah, 23 Rabi' al-Awwal 1448 AH
Support Al-Falah Welfare

تذکرۃ الصالحین از قریۃ الصالحین: حضرت مولانا قاضی مفتی محمد یحییٰ صاحب

ولادت، تعلیم، بیعت و خلافت، منصبِ افتاء و قضا اور شاگردوں کا تذکرہ

تذکرۃ الصالحین از قریۃ الصالحین: حضرت مولانا قاضی مفتی محمد یحییٰ صاحب
تذکرۃ الصالحینسلسلہ علمی و روحانی مضامین

تذکرۃ الصالحین از قریۃ الصالحین: حضرت مولانا قاضی مفتی محمد یحییٰ صاحب

ولادت، تعلیم، بیعت و خلافت، منصبِ افتاء و قضا اور شاگردوں کا تذکرہ

آپ حضرت مولانا قاضی محمد ایوب صاحب کے بڑے صاحبزادے تھے، 2 جمادی الثانی 1278ھ میں بھوپال میں پیدا ہوئے۔ بچپن ہی سے سلسلۂ تعلیم کا آغاز ہوا، دس سال کی عمر میں حفظِ قرآن مکمل کیا۔ اپنے والدِ مکرم قاضی محمد ایوب اور عمِ محترم قاضی مفتی عبدالقیوم سے تحصیلِ علم فرمائی۔

والد صاحب کی نگرانی میں تدریسی زندگی کا آغاز ہوا، بالا خانے کے ایک گوشے میں قاضی محمد ایوب اور دوسرے حصے میں قاضی یحییٰ صاحب درس دیا کرتے تھے۔ شروع میں جملہ فنون و علوم کے ساتھ یکساں دلچسپی رہی، لیکن عمر کے آخری حصے میں تحصیلِ حدیث اور فقہ سے شغف بڑھتا گیا اور آخری عمر میں صرف انہی علوم کا درس دیتے تھے۔ حسبِ روایاتِ خاندان طب کی بھی تکمیل فرمائی اور مطب بھی کیا۔

تعلق گزار اصحاب: حکیم سید عبدالحئی صاحب، حکیم محسن صاحب، حکیم نور الحسن صاحب، ڈاکٹر عماد الحسن اور ڈاکٹر رفعت اللہ آپ ہی کی طرف رجوع کرتے تھے، حالانکہ خود اربابِ حکمت میں سے تھے۔ قاضی صاحب کو نادر کتابیں جمع کرنے کا بے حد شوق تھا اور ہر قسم کی کتابوں کی فراہمی میں مستعد رہتے تھے، علمی کتابیں خود اپنے ہاتھ سے نقل فرماتے۔ اسی طرح احادیثِ مسلسلات اور اولیت حاصل کرنے کا بھی بے پایاں شوق تھا، حضرت مولانا قاری عبدالرحمن پانی پتی سے سندِ حدیث حاصل کرنے کے لیے بیرونِ شہر سفر کیا اور سند حاصل کی۔ آپ پہلے قاضی تھے جو وقتِ ضرورت انگریزی بھی جانتے تھے۔

بیعت و خلافت: حضرت شاہ ابو محمد مجددی کے ہاتھ پر بیعت ہو کر مدارجِ باطنی کی تکمیل فرمائی۔ شاہ صاحب نے قاضی صاحب کو چاروں سلسلوں کی اجازت مرحمت فرمائی اور خلافت کے شرف سے معزز کیا۔ قاضی صاحب اگرچہ شاہ صاحب کے مرید تھے لیکن جب خانقاہِ مجددیہ تشریف لے جاتے تو شاہ صاحب تعظیماً کھڑے ہو کر مصافحہ فرماتے۔ قاضی صاحب عرض کرتے کہ میں حضرت کا متوسل ہوں، اس تعظیم کے لائق نہیں بلکہ اس کو برا جانتا ہوں۔ حضرت ارشاد فرماتے کہ آپ عالمِ دین ہونے کے ساتھ میرے استاد مولانا قاضی ایوب صاحب کے صاحبزادے ہیں، میرے لیے واجبِ تعظیم ہیں۔ شاہ صاحب کے انتقال کے بعد بھی حسبِ معمول خانقاہ میں حاضر ہو کر تمام معمولات میں شرکت فرماتے رہے۔

منصبِ افتاء: قاضی محمد یحییٰ سب سے پہلے نائب مفتی ہوئے، تھوڑے ہی دن گزرے تھے کہ خاندانی جائیداد کے انتظام کے لیے پھلت جانا پڑا اور عہدۂ مذکور سے مستعفی ہوئے۔ دو سال بعد 1315ھ میں قاضی یوسف کا انتقال ہوا تو سلطان جہاں بیگم نے علمی و خاندانی حق کی بنا پر آپ کو عہدۂ افتاء پر فائز فرمایا اور مفتی عبدالحق قابلی قاضیِ ریاست بنائے گئے۔ قاضی یحییٰ صاحب عالم و فاضل ہونے کے علاوہ بہترین منتظم بھی تھے۔ 29 ربیع الثانی 1320ھ کو احکام جاری ہوئے کہ عربی، فارسی اور ہندی کے مدارس، شہر و مضافات اور کتب خانہ مولوی محمد یحییٰ مفتیِ ریاست کی زیرِ نگرانی رہیں گے اور انہی کے واسطے سے جملہ مدارس و کتب خانے کے عرائض آئیں گے۔

منصبِ قضا: جب قاضی محی الدین مرادآبادی 1919ء میں اس عہدے سے سبکدوش ہو کر وطن مراجعت فرما گئے تو قاضی یحییٰ کو حکمِ شاہی کے ذریعے 7 مارچ 1919ء کو عہدۂ قضا کا اعزاز بخشا گیا۔ اس وقت آپ اپنے وطن پھلت گئے ہوئے تھے، یہاں پہنچ کر اس عہدۂ جدیدہ کا چارج لیا۔

انتقالِ پر ملال: مرض الموت سے ایک ماہ پہلے شدید کھانسی اور سینے میں درد کی تکلیف ہوئی، اطبا نے مرضِ ذات الجنب تجویز کیا لیکن مرض بڑھتا گیا اور جو دوا دی جاتی، غشی طاری ہونے لگتی۔ جب ہوش میں رہتے، نماز ادا فرماتے۔ علالت کے دوران چند بار فرمایا کہ علاج کی ضرورت نہیں، گویا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی یاد تازہ کر دی۔ انتقال سے پہلے تمام امانتوں پر پرچے لکھوا کر رکھ دیے۔ 16 اگست 1931ء کی صبح ایسی بے ہوشی طاری ہوئی کہ پھر ہوش نہ آیا اور گیارہ بارہ بجے دن انتقال فرمایا۔ خبر پھیلتے ہی سرکاری دفاتر بند ہو گئے، نمازِ عصر کے بعد جنازہ روانہ ہوا اور اپنے والد ماجد قاضی ایوب کے پہلو میں دفن ہوئے۔

حلقۂ شاگردان: آپ کے فیض یاب شاگردوں کا سلسلہ ملک اور بیرونِ ملک کابل و بخارا تک پھیلا ہوا تھا۔ چند نام یہ ہیں: خلفِ اکبر مولوی شیخ محمد صاحب، مولانا ابو النصر سید سلطان بھوپالی مدرسِ جامعۃ الازہر مصر، مولانا مفتی علاؤ الدین صدیقی پھلتی خلیفۂ مجاز سلسلہ نقشبندیہ، مولانا عبدالحلیم صدیقی، شاہ محمد یعقوب مجددی پیر صاحب، مولانا مفتی عبدالہادی خان صاحب، مولوی فاروق صاحب نائب مفتی، علامہ ابراہیم خلیل، مولانا عبدالرشید صاحب، مولانا قاضی رضوان الدین صاحب، مولانا قاضی مفتی محمد شعیب صاحب، قاری بختیار خان صاحب، مولوی فضل غفور صاحب اور مفتی ولی اللہ۔

خلفِ اکبر مولوی شیخ محمد صاحب تحصیلِ علم کے بعد نائب مفتی مقرر ہوئے، طب کی تعلیم حاصل کی اور سلسلۂ علاج شروع کیا، بھوپال سے باہر سیاح بن کر زندگی کا بڑا حصہ گزار دیا اور 1947ء میں لاپتا ہو گئے۔