تذکرۃ الصالحین از قریۃ الصالحین: حضرت مولانا قاضی عبدالعلی صاحب
ولادت، تعلیم، مدرسہ خلیلیہ ٹونک اور منصبِ افتاء بھوپال کا تذکرہ
قاضی عبدالعلی بن حافظ عبدالحئی بن حافظ محمد داؤد بن حافظ سلیمان بن حافظ محمد عثمان بن محمد مراد بن مولانا ارشاد احمد بن محمد اعظم بن شیخ بڑے بن محمد عارف بن ابو الحسن بن حافظ فیروز بن شیخ فرید اول بن شیخ محمود بن قاضی محمد یوسف صاحب ناصحی۔ آپ اپنے وطن پھلت میں 1330ھ بمطابق 1912ء میں پیدا ہوئے، خاندانِ ولی الہٰی سے تعلق تھا اور علمائے ربانیین میں سے تھے۔
ابتدائی تعلیم پھلت میں مولانا مفتی علاؤ الدین صدیقی رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ سے حاصل کی، اس کے بعد اپنی خالہ کے ساتھ پھر ریاست ٹونک کے مدرسہ خلیلیہ میں داخل ہو گئے۔ ابھی درجہ تکمیل تک نہ پہنچے تھے کہ قاضی رضوان الدین صدیقی آپ کو بھوپال لے آئے اور درسِ نظامی کی تکمیل کرائی، مولوی عالم فاضل الہ آبادی کے امتحانات میں کامیابی حاصل کی۔ مولوی قاضی رضوان الدین صاحب نے آپ کو اپنی فرزندگی میں لے لیا۔
فراغت کے بعد جامع احمدیہ میں مدرسہ عربیہ میں درس و تدریس شروع کی۔ ریاست کی شکست کے بعد مدرسہ عبیدیہ میں ملازم ہو گئے، اسی اثنا میں دو سال ریاست ٹونک میں بھی رہ کر بحیثیت حاکمِ شرع کام کیا، پھر بھوپال واپس آ کر تعلیمات سے پنشن پائی۔ عبیدیہ سکول کے ساتھ ساتھ جامعہ اسلامیہ عربیہ بھوپال میں تدریسی سلسلے کو قائم رکھا۔
مفتی عبدالرزاق خان صاحب کے بعد منصبِ افتاء پر فائز ہوئے اور 47ء کی تقسیم تک اپنے فرائض مخصوص انجام دیتے رہے۔ آپ مولانا علاؤ الدین پھلتی رحمۃ اللہ علیہ کے سلسلے کی اہم شخصیات میں سے ایک ہیں، آپ ان لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے حضرت مولانا علاؤ الدین رحمۃ اللہ علیہ کے علوم سے استفادہ حاصل کیا۔ باقی حالات آپ کی اولاد سے مجھے مطلوب ہیں۔
