Jumu'ah, 23 Rabi' al-Awwal 1448 AH
Support Al-Falah Welfare

تذکرۃ الصالحین از قریۃ الصالحین: حضرت مولانا شاہ نور اللہ صدیقی پھلتی

شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے دو عزیز ترین شاگردوں میں سے ایک کا تذکرہ

تذکرۃ الصالحین از قریۃ الصالحین: حضرت مولانا شاہ نور اللہ صدیقی پھلتی
تذکرۃ الصالحینسلسلہ علمی و روحانی مضامین

تذکرۃ الصالحین از قریۃ الصالحین: حضرت مولانا شاہ نور اللہ صدیقی پھلتی

شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے دو عزیز ترین شاگردوں میں سے ایک کا تذکرہ

حضرت مولانا شاہ نور اللہ صدیقی پھلتی، ثم بڑھانوی، بن شاہ معین الدین اجمیری بن مولوی ابو سعید بن علی محمد بن محمد فاضل بن عبدالرحمن بن شاہ فرید اول بن شیخ محمد بن قاضی محمد یوسف صدیقی پھلتی۔ آپ دو بھائی تھے: شاہ فقیر اللہ اور شاہ نور اللہ۔ آپ پھلت کے باشندے تھے، بڑھانہ کو اپنا وطنِ ثانی بنا لیا تھا، وہیں نشو و نما پائی۔ بچپن سے ہی تحصیلِ علم میں مشغول ہوئے، ابتدائی کتابیں حضرت شاہ ولی اللہ کی والدہ کے ماموں شیخ بدر الحق پھلتی سے پڑھیں جو حضرت شاہ عبدالرحیم رحمۃ اللہ علیہ کے خلفاء میں سے اور علمائے راسخین میں سے تھے۔ چند متوسط کتابوں کا درس شیخ عبید اللہ پھلتی سے لیا، پھر تحصیلِ علم کی غرض سے دہلی پہنچ کر حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے حلقہ درس میں شامل ہوئے۔

ایک طویل عرصے تک شاہ صاحب کی تعلیم و تربیت اور فیضِ صحبت سے مستفید ہوئے، روشن دولہ ظفر خان کے مدرسے میں طالبِ علمی کے دوران وظیفہ یاب ہوئے۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی سے بیعت ہونے کے بعد مرشد کے اشارے پر وظیفہ ترک کر دیا اور فقر و توکل اختیار کیا۔ 1135ء میں جب شاہ صاحب پہلی بار سفرِ حج کے ارادے سے نکلے اور سورت کے مقام سے واپس تشریف لے آئے تو اس پُر مشقت سفر میں شاہ نور اللہ بھی ان کے رفیق تھے، اسی سفر میں قصبہ بڑھانہ میں شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے ان کو خرقہ خلافت سے سرفراز فرمایا اور علومِ ظاہری کے درس کا بھی حکم دیا۔ 1138ء سے انہوں نے بڑھانہ میں قیام فرمایا۔

آپ کا شمار استادِ معظم کی حیات ہی میں اکابر علماء میں ہوتا تھا، فقہ حنفی میں امام کا درجہ رکھتے تھے۔ آپ حضرت شاہ ولی اللہ کے دو عزیز ترین شاگردوں میں سے تھے جنہوں نے شاہ صاحب کا سلسلہ آگے پھیلایا اور اپنی ذات کی نمائش نہیں کی، آپ اور شاہ محمد عاشق صدیقی پھلتی حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے خلفائے اعظم تھے۔

شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی نے آپ سے کتبِ علمِ فقہ پڑھیں، شاہ عبدالعزیز آپ کے داماد تھے۔ ان کے چار فرزند عطیہ اللہ، فضل اللہ، ہیبت اللہ، عطاء اللہ اور تین دختر صبیحہ، حبیبہ، ملیحہ تھیں۔ حضرت مولانا عبدالحئی بن ہیبت اللہ بڑھانوی حضرت شاہ نور اللہ کے پوتے تھے، اور مفتی عبدالقیوم صاحب مفتی بھوپال، مولانا عبدالحی کے صاحبزادے اور شاہ نور اللہ کے پڑپوتے تھے۔ حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی، حضرت شاہ ولی اللہ کے انتقال کے بعد آپ ہی کی طرف رجوع فرماتے تھے اور مدرسہ رحیمیہ کے تمام معاملات حضرت شاہ نور اللہ کے مشورے سے طے فرماتے تھے۔ اسی رشتہ داری کی وجہ سے مولانا عبدالحئی، شاگردِ خاص شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی جو شاہ نور اللہ کے پوتے تھے، کو شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی نے اپنی فرزندگی میں لیا اور اپنی ایک بیٹی سے آپ کا نکاح فرمایا۔ 1187ھ میں شاہ نور اللہ بڑھانوی کا انتقال ہوا۔

شاہ عبدالعزیز کے مکتوب سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ کے شیخ حضرت شاہ ولی اللہ نے آپ کے متعلق جو کلمات اپنے قلم سے تحریر فرمائے وہ یہ تھے: "بسم اللہ الرحمن الرحیم، بے شک اللہ رب العزت نے معرفت کی خوشبو دینے والی عبادات کو قبول فرمایا، جن میں یہ اخلاق اور معرفت کی خوشبوئیں ہیں، اور ان نفحات میں ہمارے فاضل اور ذہین بھائی، زیرک، عقلمند، کامل دوست، شیخ نور اللہ بن معین الدین پھلتی ہیں، اللہ تعالیٰ ان کے ظاہر و باطن کو اپنی مرضیات کے نور سے منور فرمائے اور ان کے لطائفِ ظاہرہ و کامنہ کو اپنے ذکر کے ظہور اور اپنی عبادات سے مطہر فرمائے۔ ان کی باطنی حیثیت علومِ دین کی تحصیل کے لیے، جیسے تفسیر، حدیث، اصولِ حدیث و فقہ اور اصولِ فقہ وغیرہ میں مسلم ہے، ان کو اللہ تعالیٰ نے اسی کی طرف متوجہ فرمایا، پس طلب کا دُھن ان کے دل میں راسخ اور مستحکم ہو گیا اور وہ اس کی طرف جولاں ہو گئے، پھر ان کو سلوک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا، پھر عنایتِ الٰہی ان کے شاملِ حال ہوئی اور وہ برابر ترقی کرتے رہے اور اللہ کے نیک بندوں میں شامل ہو گئے۔ ہم میں کم لوگ ایسے ہیں جن میں توجہ کی محبت شاذ ہوتی ہے اور انہوں نے اقتدار کی دوڑ کو ترک کر دیا، یعنی دنیاوی جاہ و منصب کی طرف کبھی رغبت نہیں رکھی، پھر ان کی انانیت فنا ہو گئی اور توحید کی ہویت کے میدان میں جولاں ہو گئے، پھر خالص کر دیے گئے اور شہودِ اصلی کی طرف لوٹا دیے گئے، اس مقام کی طرف جہاں چراغ تھا، یعنی شریعت اور طریقت اور حقیقت کی طرف، یعنی رجوع الی الحقیقت الی اللہ، یہی سلف صالحین کا طریقہ ہے۔"

دوسرے مکتوب میں فرماتے ہیں: "جب تمہاری طرف نظر جاتی ہے تو ایک عجیب ہی سرور محسوس ہوتا ہے، تمہارا لطیفہ خفیہ آگاہ اور مست ہے اور تم مستِ قلب کے حامل ہو، اور فطری استقامت اور متانت رکھتے ہو، اور دنیا سے استغنا خود تمہاری جبلت ہے، اسی قسم کے الطاف والے ہمیشہ اپنے اصحاب میں ممتاز اور احباب میں قابلِ رشک ہوتے ہیں، الحاصل ان کا مبارک وجود عطائے الٰہی ہے، اسے غنیمت سمجھنا چاہیے۔"

اللہ تعالیٰ فقیر کو بھی حضرت کے فیض سے مستفید فرمائے، اور حضرت کا فیض میرے قلب اور میرے لطائف میں جاری ہے، آمین۔