Jumu'ah, 23 Rabi' al-Awwal 1448 AH
Support Al-Falah Welfare

تذکرۃ الصالحین از قریۃ الصالحین: حضرت مولانا شاہ علاؤ الدین صدیقی پھلتی

ولادت، تعلیم، بیعت، سیرت اور شاگردوں کا تذکرہ

تذکرۃ الصالحین از قریۃ الصالحین: حضرت مولانا شاہ علاؤ الدین صدیقی پھلتی
تذکرۃ الصالحینسلسلہ علمی و روحانی مضامین

تذکرۃ الصالحین از قریۃ الصالحین: حضرت مولانا شاہ علاؤ الدین صدیقی پھلتی

ولادت، تعلیم، بیعت، سیرت اور شاگردوں کا تذکرہ

آپ 1864ء میں اپنے ننھیالی گاؤں پہلت شریف میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد کا نام محمد عمر اور دادا کا نام حافظ غلام محمد تھا، آپ کا ننھیال بھی پہلت سے ہی تھا، آپ کی والدہ کا نام صفیہ خاتون تھا۔ آپ کے ماموں نمبردار امیر الدین، فقیر الدین اور عبدالغنی اپنے علاقے کے سب سے بڑے جاگیردار زمیندار تھے۔ آپ پہلت کی بزرگ عظیم روحانی ہستی حضرت عارف باللہ مولانا شاہ قاضی محمد یوسف صدیقی کی اولاد میں سے تھے۔ ابتدائی تعلیم پہلت شریف کے مقامی علماء سے حاصل کی۔ آپ ابھی کچھ ماہ کے تھے کہ والد صاحب کا انتقال ہو گیا، آپ کی والدہ نے آپ کی پرورش فرمائی۔ اس کے بعد دین کی اعلیٰ تعلیم کے لیے بھوپال تشریف لے گئے۔ بھوپال قیام کے دوران آپ کی والدہ آپ سے ملنے آئیں، بیمار ہوئیں اور اللہ کو پیاری ہو گئیں، وہیں مدفون ہوئیں۔ وہاں علمِ طب اور علمِ معقولات مولانا سید برکات احمد ٹونکی رحمۃ اللہ علیہ سے حاصل کیا اور بقیہ کتبِ علمِ منقولات اپنے خاندانی بزرگ اور رشتے کے چچا حضرت مولانا مفتی قاضی یحییٰ صاحب سے حاصل کیں۔ دورہ حدیث عارف باللہ مولانا شاہ فضل الرحمن صدیقی گنج مرادآبادی کے خلیفہ اور مایہ ناز شاگرد حضرت مفتی نور الحق ٹونکی سے حاصل کیا اور خلافت و اجازت سے نوازے گئے۔ اس کے بعد آپ نے مرادآباد جا کر شاہ فضل الرحمن رحمۃ اللہ علیہ سے بھی اجازتِ حدیث حاصل کی۔ اس کے بعد آپ وطن واپس آ گئے، تقریباً 60 سال پہلت کی بڑی جامع مسجد کے امام، خطیب، مفتی اور سجادہ نشینِ اسلافِ کرام خاندانِ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی و شاہ محمد عاشق صدیقی پھلتی کے طور پر خدمات سرانجام دیں۔ علاقے کے بہت سے لوگوں نے آپ سے علمِ حدیث و قرآن کی تعلیم حاصل کی۔

بیعت اور اجازت: آپ کو آپ کے استادِ حدیث مفتی نور الحق ٹونکی صاحب سے نقشبندی سلسلے کی اجازت ملی۔ آپ حضرت مولانا شاہ اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ سے ملاقات کے لیے گئے تو حضرت تھانوی نے بھی آپ کو اجازت مرحمت فرمائی، اور خاندانی تمام سلاسل کی اجازت مولانا فیض احمد صدیقی پھلتی سے آپ کو حاصل تھی۔

شادی: آپ کی شادی پروفیسر محمد شریف صدیقی رحمۃ اللہ علیہ کی صاحبزادی سلمہ خاتون سے ہوئی، جو خاندانِ یوسفی کی ایک شاخ سے تعلق رکھتی تھیں۔ ان سے آپ کے تین صاحبزادے حکیم محمد اویس، مولوی حکیم انیس احمد، حکیم محمد ادریس اور ایک صاحبزادی امت الاحد پیدا ہوئیں۔ آپ 1928ء میں حج بیت اللہ کے لیے تشریف لے گئے اور اپنی زندگی میں 2 دفعہ حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کی۔

سچائی اور نماز کی پابندی: حضرت والا ہمیشہ سچ بولتے، اور کبھی خلافِ واقعہ بات نہ فرماتے چاہے اس میں اپنا اور اپنی اولاد کا نقصان ہی کیوں نہ ہو رہا ہو، یہ وہ عمل تھا جو قرونِ اولیٰ کے لوگوں میں پایا جاتا تھا۔ نماز آپ ہمیشہ عصر کے اول وقت میں ادا فرماتے اور فاتحہ خلف امام کے قائل تھے، جو ولی اللہ مشرب کی نشانی ہے۔

روحانی علاج: حضرت روحانی علاج بھی کرتے تھے، عملیات کو پسند نہ فرماتے۔ اگر کوئی ذکر پوچھ لیتا تو کلمہ طیبہ، تیسرا کلمہ، درود شریف، استغفار اور مسنون دعاؤں کی ترتیب بتاتے۔ آپ مروجہ طریقے سے بیعت بھی نہیں لیتے تھے بلکہ لوگوں کو مسنون دعاؤں کے اہتمام کا ارشاد فرماتے۔ آخری عمر میں تقریباً 94 سال کی عمر میں لاہور پاکستان ہجرت فرمائی جہاں آپ کے صاحبزادگان حکیم محمد اویس، حکیم محمد ادریس اور مولوی حکیم انیس احمد رہتے تھے۔ لاہور میں مسجد گھر سے دور تھی، اس لیے لاہور صدیقی نگر میں جامع مسجد صدیق اکبر کی آپ نے سنگِ بنیاد رکھی اور اس کے ساتھ ایک چھوٹا سا قبرستان بنایا گیا۔ 1971ء میں حضرت نے 96 سال کی عمر میں رحلت فرمائی اور مسجد سے متصل قبرستان میں تدفین ہوئی۔

مطب: آپ حکمت بھی کرتے تھے لیکن اسے ذریعہ معاش نہیں بنایا۔ کوئی علاج کے لیے رابطہ کرتا تو اسے نسخہ لکھ دیتے اور طریقہ علاج بھی بتلا دیتے۔

شاگرد: آپ سے ایک زمانے نے فیض پایا۔ تینوں صاحبزادگان حکیم محمد اویس، مولوی حکیم انیس احمد، حکیم محمد ادریس صدیقی، آپ کے بھتیجے مفتی قاضی محمد شریف فاضلِ دیوبند مفتی ریاست چھبڑا، مولانا مفتی محمد حنیف مفتی ریاست مالوہ فاضلِ دیوبند، مولانا مولوی محمد مختار احمد مفتی ریاست دیواس فاضلِ دیوبند، حافظ عبدالولی صاحب، مولانا جمیل احمد امام جامع مسجد پہلت، حضرت مولانا اختر الحق صاحب فاضلِ دیوبند، حافظ انیق احمد، حافظ ضمیر احمد، حافظ ظریف احمد، مولانا مفتی قاضی عبدالعلی بھوپال شیخ التفسیر، مولانا مفتی افتخار الحسن کاندہلوی، جناب حافظ قاری ظہور احمد صاحب، حضرت مولانا الحاج ابو ناصر ذاکر حسن فاضلِ مظاہر علوم سہارنپور، حکیم سید ظہیر احمد برکاتی ٹونک، جناب مولانا امیر احمد صاحب، جناب حکیم الزماں صاحب فاضلِ دیوبند، مولانا حافظ راغب حسن صاحب خطیب کولمبیا، مولوی لہیق احمد صاحب، مولوی فصیح الزماں صاحب فاضلِ دیوبند، مولوی عزیز الرحمن صدیقی فاضلِ دارالعلوم دیوبند، حکیم فخر الدین فاضلِ دیوبند کہتولی، مولوی برہان الدین صدیقی فاضلِ دیوبند، حکیم حافظ قسیم الدین پروفیسر جامعہ طبیہ شرقیہ کراچی، حکیم مولوی محمد نسیم الدین صاحب، مولوی محمود احمد انصاری صاحب پڑھانوی، حکیم محمد افضال انصاری صاحب، حکیم محمد سعید صاحب قصبہ لاوڑ، حکیم بلیغ الزماں صاحب، حکیم حافظ عطاء الرحمن صاحب، حکیم حافظ محمد حاتم صاحب، حکیم علیم الزمان صدیقی فاضلِ دیوبند، مولوی نعیم الزمان صدیقی فاضلِ دیوبند، حافظ عبدالولی صاحب اور بہت سے لوگ شامل ہیں۔

آپ کے متعلق حضرت مولانا الحاج مولوی ابو الناصر ذاکر حسن مظاہری پھلتی، مہتممِ مدرسہ فیض الاسلام پہلت، ناظمِ ادارہ تفسیرِ قرآن عظیم بنگلور، صدر جمعیت علمائے ہند شاخ بنگلور، ممبر وقف بورڈ ریاستِ میسور نے ایک مختصر جامع مضمون تحریر کر کے "البحر فی الکوز" یعنی سمندر کو پیالے میں بند کرنے کی مثال پیش کی۔ وہ فرماتے ہیں: الحمدللہ والصلاۃ علی عبادہ الذین اصطفیٰ، اما بعد، یہ ہیچ دان عارف باللہ مبتہل الی اللہ جامع معقول و منقول حاوی فروع و اصول استاذ العظیم جناب حضرت الحاج الحکیم مولانا شاہ علاؤ الدین صاحب دامت برکاتہم کی ذاتِ گرامی کے متعلق اپنے تاثرات تحریری صورت میں پیش کرنے پر چند شکستہ کلمات پیش کرنے کی جرأت کر رہا ہوں۔

حضرت مخدوم دامت برکاتہ احقر کی نظر میں ان سلیم الفطرت بزرگوں میں سے ہیں جن کی فطرتِ سلیمہ نہ فسادِ ماحول سے ابتدائی عمر میں متاثر ہوئی نہ عالمِ شباب میں۔ اسلام فطری اصول پر مبنی ہے اور اسی فطرت پر ہر انسان پیدا کیا گیا ہے، حضرت دامت برکاتہم کی افتادِ طبع بھی ایسی تھی کہ آپ نے ہمیشہ ایسی پاکیزہ فطرت کے تقاضوں پر عمل فرمایا ہے جس نے کبھی فاسد ماحول کا اثر قبول نہیں کیا۔ عالمِ شباب کے کچھ مخصوص تقاضے ہوا کرتے ہیں جن کی وجہ سے احباب کا حلقہ بن جاتا ہے اور پھر اس حلقے کے احباب ایک دوسرے کے کردار سے متاثر ہو ہی جایا کرتے ہیں۔ حضرت کے احباب میں بھی ایک صوفی صاحب تھے جن سے خصوصی تعلق تھا، میرے بچپن کی بات ہے کہ جب ایک تماشے کے سلسلے میں وہ صاحب متاثر ہو گئے اور حضرت کو معلوم ہوا تو اسی وقت آپ نے ان سے رشتہ مودت ختم فرما دیا، حالانکہ وہ زمانہ آپ کا بھی شباب کا تھا۔

تقرب الی اللہ کے لیے سلسلہ بیعت اختیار کرنا اکثر حالات میں بہت ضروری اور مفید ہوتا ہے اور کوئی شک نہیں کہ بغیر بیعت کے اور شیخِ کامل کے منزل طے کرنا سخت مشکل بلکہ متعذر ہے، لیکن حضرت کی خصوصیت یہ ہے کہ آپ نے اپنا مقتدیٰ کتاب و سنت کو بنایا اور صرف ماثور و مسنون دعاؤں، نوافل اور اوراد کے ذریعے ہی منزل طے فرمائی۔ حکیم الامت تھانوی رحمہ اللہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور حالات عرض کر کے آپ کی رائے عالی معلوم کی، حضرت حکیم الامت نے فرمایا کہ جو آپ کر رہے ہیں یہی کافی ہے، آپ کو رسمی بیعت کرنے کی ضرورت نہیں۔ سبحان اللہ! یہ بات ہزاروں میں کسی ایک کو نصیب ہوتی ہے: "اے سعادت بزور بازو نیست، تا نہ بخشد خدائے بخشندہ۔" حضرت والا دامت برکاتہم کے نزدیک اتباعِ سنت سب سے اہم قدم ہے، جب کسی شیخ سے ملاقات فرمائی اور ان کے ہاں کوئی معمولی بات خلافِ سنت دیکھی تو ان سے کنارہ کش ہو گئے۔ اتباعِ سنت اور کتاب اللہ آپ کی عظیم کرامت ہے۔ آپ حنفی المسلک ہیں لیکن جن مسائلِ حنفیہ میں آپ کو تردد ہوا ان میں آپ نے وہ مسئلہ اختیار فرمایا جو آپ کی تحقیق میں اوفق بالسنہ ہوا، مثلاً ایک مثل سایہ پر وقتِ عصر ہونا آپ کے نزدیک اوفق بالسنہ ہے اس لیے ہمیشہ اسی پر عمل رہا۔

آپ کو تفہیمِ مہمات مسائل کا خاص ملکہ حاصل ہے، آپ لمبی چوڑی تقریر نہیں فرماتے بلکہ مختصر سہل الفاظ میں نفیس مطلب بڑے اچھے انداز میں سمجھا دیتے تھے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ بچپن میں جب ہم کافیہ، شرح جامی وغیرہ پڑھا کرتے تھے اور سبق پڑھ کر لوٹتے تھے تو ہم آپس میں کہا کرتے تھے کہ مولوی صاحب نے اس سبق کا مطلب ڈبیا میں بند کر کے دے دیا، یعنی ایسا ذہن نشین کر دیا گویا وہ ڈبیا میں بند ہو گیا ہے۔

زہد و قناعت آپ کا خاص شعار تھا۔ علومِ متداولہ سے فراغت کے بعد جب آپ وطن میں قیام فرمایا اور تدریس کا سلسلہ جاری کیا، اس وقت آپ کے پاس سو بیگھے زمین تھی، اسی کی آمدنی پر ساری زندگی گزار دی، تمام بچوں کی پرورش کی بلکہ یتامیٰ، مساکین اور بیوہ عورتوں کی بھی خدمت کرتے رہے۔ طلبہ جو دینی علوم حاصل کرنے کے لیے آتے ان کی خدمت بھی کرتے رہے اور دینی و مذہبی خدمات سے کبھی ذاتی فائدہ نہیں اٹھایا۔ حدیہ ہے کہ استاد طلبہ سے ذاتی خدمت لیتے ہیں الا ماشاء اللہ، اور بے شک ان کو اس کا حق ہے، لیکن آپ نے کبھی گوارا نہیں فرمایا۔ ہم شاگردوں نے باربار چاہا کہ گھر کی لکڑیاں اٹھا دیں یا کوئی اور کام کر دیں لیکن آپ نے ہمیشہ منع فرمایا، حالانکہ آپ ہمیں بلا فیس پڑھاتے تھے۔ تقریباً 50 برس تک آپ نے مدرسہ فیض الاسلام پہلت میں تعلیم دی اور جامع مسجد میں امامت کی، اتنی پابندی سے ملازمین بھی خدمت نہیں کرتے جتنی پابندی سے آپ نے یہ خدمت بلا معاوضہ انجام دی۔ واقعہ یہ ہے کہ باشندگانِ پہلت کی آپ نے جو بے لوث خدمت کی ہے وہ سنہری حروف میں لکھے جانے کے قابل ہے، تمام اہلِ پہلت اور مضافات پر آپ کا احسانِ عظیم ہوتا رہا۔ سو خواہ اہلِ پھلت ممنون ہوں یا نہ ہوں، لیکن واقعی یہی ہے کہ آپ کی ذاتِ گرامی درحقیقت اللہ رب العزت کی رحمت کا ایک سایہ تھی جس کے ظلِ ہمایونی میں اہلِ پھلت پروان چڑھتے رہے۔

آپ ضبط و تحمل کے ایک جبلِ عظیم تھے، بڑے بڑے فتنوں اور جھگڑوں میں بھی آپ نے کبھی سخت الفاظ میں غصہ نہیں فرمایا، حتیٰ کہ جب ایک نکاح کے معاملے میں تلامذہ نے قرابت کی پاسداری کرتے ہوئے حضرت کی کھلی مخالفت کی تب بھی آپ نے برملا غصے کا اظہار نہیں فرمایا۔ غیبت اور استماعِ غیبت سے اس شورشِ مخالفانہ کے زمانے میں بھی مکمل اجتناب فرمایا۔ تصفیہ معاملات میں آپ کو خاص ملکہ حاصل ہے، سیکڑوں نزاعات اہلِ پھلت میں پیش آئے جن کا فیصلہ آپ نے کیا اور مسلمانوں کو مقدمہ بازی کی تباہی سے بچایا۔ فیصلہ معاملات میں آپ قانونِ شریعت اور آئینِ حکومت دونوں کا لحاظ فرماتے۔ عجیب بات یہ ہے کہ آپ دنیاوی معاملات اور زمینداری کے مہمات مسائل میں پورا تدبر، تجربہ اور مہارت رکھتے تھے، جبکہ اکثر علماء عقلِ معاش سے عاری اور اکثر عوام عقلِ معاد سے خالی ہوتے ہیں، لیکن اللہ رب العزت نے آپ کو دونوں قسم کی عقلوں سے حظِ وافر عطا فرمایا۔ علومِ شریعہ کے علاوہ آپ علمِ طب میں بھی اس قدر مہارت اور تجربہ رکھتے تھے کہ اگر اس مہارت کو درجہ اجتہاد فی الطب سے اور آپ کو مجتہد کے معالج سے تعبیر کیا جائے تو بالکل بجا ہے۔ اکثر اطباء مجربات کے متلاشی رہتے ہیں لیکن آپ اکثر اپنی قوتِ اجتہادی سے ایسے نسخے تخلیق فرماتے تھے جو کم قیمت، کم اجزاء اور نافع ہوتے تھے اور جن سے مخلوقِ خدا کو بڑا نفع پہنچا۔

ہمارے بچپن میں آپ کا ایک طبی لطیفہ دیکھنے میں آیا: مضافات کا ایک بوڑھا ہندو آیا، آپ نے اس کی نبض دیکھ کر نسخہ لکھ کر فرمایا کہ اس کو تین دن تک پکا کر پیو۔ چوتھے روز وہ پھر آیا اور بتلایا کہ بڑا فائدہ ہوا لیکن ابھی یہ شکایت باقی تھی، آپ نے نسخہ طلب فرمایا تاکہ اس میں کچھ اضافہ فرمائیں، بوڑھے نے کہا کہ جی تین دن تک اس پرچے کو پکا کر پلایا تو گل گیا اور ختم ہو گیا۔ حضرت مسکرا دیے اور ہم بچے بہت ہنسے، آپ نے فرمایا بھائی میں نے پرچہ پکانے کو نہ کہا تھا، دراصل یہ حضرت کی خاموش کرامت تھی۔ علمِ طب ایک سند ہے، اگر آدمی اسے ذریعہ معاش بنائے تو کوئی مضائقہ نہیں، مگر حضرت کی قناعت پسند طبیعت نے یہ گوارا نہ فرمایا کہ اس سے معاشی فوائد حاصل کریں، مدت العمر طبی خدمات بالکل مفت انجام دیں، نہ فیس لی نہ دوا دے کر قیمت وصول کی۔ جس وقت بھی کوئی بلا لے آتا فوراً ساتھ ہو لیتے، کام کرنے والے جانتے ہیں کہ یہ بات کتنی مشکل ہے، لیکن آپ کی بے نفسی نے ہمیں یہ مشاہدہ کرایا کہ آپ لوگوں کو الخلق عیال اللہ تصور کرتے تھے اور شفقت علی خلق اللہ کا بڑا جذبہ رکھتے تھے۔

سادگی آپ کی خمیر میں ممزوج تھی، دنیا میں ہزارہا قسم کے تلذذات، ملبوسات اور فیشن ایجاد ہوئے مگر حضرت کی طبیعت ہمیشہ ان سے بے نیاز رہی، سادہ کھانا اور سادہ لباس ابتدا میں اختیار فرمایا اور آج تک اسی پر قائم رہے، نہ کبھی شیروانی پہنی نہ جبہ قبہ، سادہ کرتا پاجامہ، ٹوپی، سردیوں میں صافہ، دیسی جوتا ہمیشہ استعمال فرمائے اور اپنی ایک ہی وضع پر ساری عمر گزار دی۔ حضرت والا کی خصوصیت یہ ہے کہ آپ صدق و صفا کے باب میں ایک جبلِ عظیم ہیں، ان کی زندگی میں ایسے واقعات پیش آئے ہیں جن کی بنا پر میں نے آپ کے متعلق نظریہ قائم کیا ہے، ایک ادنیٰ مثال یہ ہے: ایک شرعی طور پر جائز نکاح ایک صالہ جوان کے ساتھ آپ نے پڑھایا لیکن دلہن کے بعض اقربا نے خودغرضی کی بنا پر اس رشتے کو ناپسند کرتے ہوئے دلہن کا فوراً زبردستی نکاح دوسرے ایک ضعیف الامر شخص سے پڑھوا دیا۔ اس پر پہلے ناکح نے مقدمہ دائر کر دیا، یہ مقدمہ اس قدر ہنگامہ خیز ثابت ہوا کہ قصبے میں دو پارٹیاں زبردست قائم ہو گئیں اور معاملہ اقتدار کا مسئلہ بن گیا۔ اس موقع پر اکثریت ناکحِ ثانی کے ساتھ تھی اور صرف سنجیدہ و صالح افراد حضرت اور ناکحِ اول کی موافقت میں تھے۔ مقدمے کی نوعیت ایسی تھی کہ اگر حضرت وکیل کے مشورے کے مطابق اپنے عدالتی بیان میں ذرا لچک اختیار فرماتے تو مقدمہ ناکحِ اول اور حضرت کے موافق ہو جاتا، فریقِ ثانی کو شکست ہوتی اور حضرت اور ناکحِ اول کی جماعت کو بڑی سرخروئی حاصل ہوتی۔ حضرت کے موافق جماعت نے بہت زور دیا کہ آپ وکیل کے مشورے سے بیان دیں لیکن آپ نے قبول نہ فرمایا اور جو واقعہ تھا صرف وہی بیان فرمایا، نتیجے میں ناکحِ اول کی جماعت کو شکست ہوئی اور ناکحِ ثانی کی جماعت نے شادیانے بجائے، مگر حضرت والا نے اس کی کوئی پرواہ نہ کی۔

ضبط و تحمل کے حضرت پیکر تھے، ہمارے بچپن میں حضرت کی زندگی ہمارے سامنے رہی، بارہا ناگوار واقعات پیش آئے جن سے کوئی دوسرا آگ بگولا ہو جاتا ہے لیکن حضرت کی عجیب شان تھی کہ اپنے غصے کو اپنی جان پر برداشت فرماتے اور انتہائی صبر و تحمل اختیار کرتے، کبھی آپ کو دو بدو لڑتے یا جھگڑتے، برے الفاظ کا تبادلہ کرتے ہم نے نہ دیکھا، ہاں غصے کے آثار چہرے پر اس طرح نمودار ہوتے تھے کہ چہرہ سرخ اور مشتعل ہو جاتا، پیشانی پر بل پڑ جاتے مگر زبانِ مبارک سے کبھی کوئی مبتذل لفظ نہیں نکلا۔ احادیث میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے غصے کی یہی کیفیت ہم نے پڑھی، گویا غصے میں بھی حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع فرماتے تھے، اور اس عالم میں جہاں انسان غصے میں بے خود اور بے خرد ہو جاتا ہے، آپ نے دامنِ اتباعِ سنت نہیں چھوڑا۔ سبحان اللہ، اللہ نے کیسے کیسے متبعینِ سنت پیدا فرمائے۔ حضرت والا کی تمام خصوصیات بیان کرنا مجھ جیسے بے بصر اور کم بصیرت کے لیے ناممکن ہے، تبرک کے لیے مختصر یہ کہ حضرت والا کی ذاتِ گرامی افضل الکلمات ہے۔ سخت افسوس ہے کہ حضرت والا کا عظیم البرکت سایہ آج پھلت سے اٹھ گیا اور پھلت کے باشندگان آپ کے فیوض و برکات سے محروم ہو گئے، دعا ہے اللہ جل شانہ حضرت کا سایہ ہمیشہ قائم و دائم رکھے اور اہلِ پاکستان کو ان کے فیوضات سے مستفید فرمائے۔

آپ کے متعلق میرے دادا حکیم محمد ادریس رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے کہ ہم نے ابا جی جیسا متبعِ سنت، ماہیِ سنت، فنا فی اللہ کوئی شخص نہیں دیکھا۔ آپ فرماتے تھے کہ میں یہ اس لیے نہیں کہتا کہ وہ میرے والد صاحب تھے بلکہ اس وجہ سے کہ ہم نے دنیا میں بہت سے علماء اور صوفیا کی زیارت کی ہے لیکن حضرت جیسی مثال کم ہی ملتی ہے۔ آپ اپنا ایک واقعہ بتلاتے تھے کہ میں نے 1963ء میں پاکستان میں خواب دیکھا کہ ابا جی کے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے ہیں اور وہ پورے کمرے میں پھیلے ہوئے ہیں، میں پریشانی کی حالت میں اٹھ گیا، ابا جی کو ان کے کمرے میں دیکھا تو وہ بستر پر نہیں تھے بلکہ قریب ہی تہجد کے نوافل پڑھ رہے تھے۔ اگلے دن یہ واقعہ میں نے خاندان کے ایک صوفی محتشم باللہ خلف حکیم محمد ہاشم صاحب پھلتی سے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ یہ خواب نہایت مبارک ہے اور اکثر اولیاء اللہ کے متعلق اس قسم کے مشاہدات و رفیع درجات، رویائے صالحہ دیکھنے میں آتے ہیں، فنا فی اللہ اور بقا باللہ کے مقام کا اشارہ ہے، یقیناً یہ ولایت میں سب سے اعلیٰ اور عارفانہ مقام اور حالات کی طرف نشاندہی کرنے والی بات تھی۔

ایک اور واقعہ حضرت کے بعد از وصال تصرف کی نشاندہی کرتا ہے، دادا جی فرماتے تھے کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک بہت بڑا بندر ہمارے صحن میں کھڑا ہو کر میری طرف دیکھ کر غرا رہا ہے۔ دادا جی کہتے ہیں صبح میں علماء کے پاس گیا تو انہوں نے سحر کی طرف اشارہ کیا، میں بہت پریشان تھا کوئی حل نظر نہیں آ رہا تھا، بالآخر حضرت کی لحد پر جا کر دعا کی اور واپس آ گیا۔ کچھ دن بعد پھر خواب دیکھا کہ وہ بڑا بندر صحن میں کھڑا ہے اور میری طرف غصے سے دیکھ رہا ہے، اور صحن کی دوسری طرف ایک کالا بہت بڑا ببر شیر کھڑا ہے، اس شیر کو زنجیریں ڈلی ہوئی ہیں، شیر نے بندر کو دیکھ کر دھاڑ ماری تو وہ بندر چھوٹا ہوتا گیا یہاں تک کہ بالکل چوہے کی طرح ہو گیا اور جس طرح سے آیا تھا اسی طرح واپس چلا گیا، اور خواب میں کسی نے آواز دی کہ یہ شیر علاؤ الدین کا ہے۔ فقیر راقم الحروف نے جب یہ واقعہ سنا تو میں بہت چھوٹا تھا، میرے دل میں خواہش ہوئی کہ یہ شیر میرے پاس ہونا چاہیے، پھر ایک دن ایسا بھی آیا کہ وہ میرے ساتھ ہو گئے۔

فقیر حضرت والا کے خادمِ خاص ہیں، فقیر کے ساتھ حضرت کی بہت عنایات ہیں، حضرت نے مجھے اپنی خلافت سے نوازا ہے اور نسبتِ ولی الہٰی عطا فرمائی، اپنا روحانی اور موکلاتی نظام فقیر کے حوالے فرمایا اور اس میں تصرف کرنے کی اجازت دی، فقیر کی تربیت فرمائی، فقیر کا حضرت سے مراقبے کے ذریعے رابطہ ہے اور بہت ساری مشاہداتی چیزیں فقیر کے علم میں ہیں لیکن یہاں بیان کرنا مناسب نہیں، اتنا ضرور کہوں گا کہ حضرت اپنے زمانے کے ابدال تھے اور فقیر کو بھی جو روحانی بالیدگی و ترقی عطا ہوئی ہے وہ حضرت کے طفیل ہے، حضرت کی توجہ و امدادِ محبت کی وجہ سے ممکن ہوئی ہے، اور فقیر ان شاء اللہ حضرت کا فیض تادمِ مرگ جاری رکھے گا۔ اللہ تعالیٰ اس کاوش کو قبول فرمائے۔ حضرت کے مکمل حالات فقیر کی کتاب "تذکرۃ الصالحین از قریۃ الصالحین" میں شامل کیے جائیں گے۔