Jumu'ah, 23 Rabi' al-Awwal 1448 AH
Support Al-Falah Welfare

تذکرۃ الصالحین از قریۃ الصالحین: حضرت مولانا نصیر احمد صدیقی پھلتی

صدر مدرسِ دارالعلوم خلیلیہ ٹونک اور بحر العلوم بزرگ کا تذکرہ

تذکرۃ الصالحین از قریۃ الصالحین: حضرت مولانا نصیر احمد صدیقی پھلتی
تذکرۃ الصالحینسلسلہ علمی و روحانی مضامین

تذکرۃ الصالحین از قریۃ الصالحین: حضرت مولانا نصیر احمد صدیقی پھلتی

صدر مدرسِ دارالعلوم خلیلیہ ٹونک اور بحر العلوم بزرگ کا تذکرہ

شیخ ولی محمد کی پہلی بیوی سے مولوی عبدالرب صاحب پیدا ہوئے، جو ایک صوفی منش اور خدا رسیدہ بزرگ تھے، ان کی وفات 1891ء میں ہوئی۔ ان کے فرزند مولانا نصیر احمد بڑے معزز عالم تھے۔ ان کا شمار اس دور کے چند علماء میں ہوتا تھا جن کی زندگی کا عزیز ترین مشغلہ درس و تدریس تھا۔

ایک مدت تک انہوں نے حضرت علامہ سید برکات احمد کے قائم کردہ دارالعلوم خلیلیہ ٹونک میں صدر مدرسی کے فرائض سرانجام دیے اور سینکڑوں طالبانِ علومِ دین آپ سے فیض یاب ہوئے۔ آپ علمِ حدیث، تفسیر، فقہ اور اصول میں بحر العلوم تھے اور علمِ ریاضی میں بھی مہارتِ تامہ رکھتے تھے۔ بہت بڑے صاحبِ تقویٰ عالم اور سراپا نورِ مجسم تھے، اور باوجود زہد و تقویٰ اور عبادت گزاری کے بے حد شگفتہ مزاج اور خوش طبع انسان تھے۔

اساتذہ: مولانا نصیر احمد نے علمِ حدیث قاضی محمد ایوب پھلتی ثم بھوپالی سے، علمِ ریاضی مولانا سیف الرحمن سے اور علومِ عقلیہ حضرت مولانا سید برکات احمد سے حاصل کیے تھے۔ نسبت و ارادت حضرت مولانا حاجی امداد اللہ مہاجر مکی چشتی صابری قدس سرہ العزیز سے تھی۔

وصال اور اولاد: 22 ذی الحجہ 1348ھ کو ٹونک میں انتقال فرمایا۔ مولانا نصیر احمد سے مولانا حکیم سید دائم علی کی دختر اور علامہ سید برکات احمد کی ہمشیرہ منسوب ہوئیں، ان سے مولانا قاری امیر احمد اور مولانا حکیم سید ظہیر احمد برکاتی، اور دو صاحبزادیاں امت الحئی اور امت العزیز پیدا ہوئیں۔ امت العزیز کی شادی پھلت کے ایک عظیم مرتبہ اور ذی علم خانوادے کے ممتاز فرد، حضرت انور شاہ کشمیری کے ارشد تلمیذ مفتی محمد شریف رحمۃ اللہ علیہ سے ہوئی۔