Jumu'ah, 23 Rabi' al-Awwal 1448 AH
Support Al-Falah Welfare

تذکرۃ الصالحین از قریۃ الصالحین: مولانا محمد یوسف صدیقی، صدر مجلس العلماء بھوپال

تعلیم، بیعت و خلافت، حرمین شریفین کا سفر اور صدارتِ مجلس العلماء کا تذکرہ

تذکرۃ الصالحین از قریۃ الصالحین: مولانا محمد یوسف صدیقی، صدر مجلس العلماء بھوپال
تذکرۃ الصالحینسلسلہ علمی و روحانی مضامین

تذکرۃ الصالحین از قریۃ الصالحین: مولانا محمد یوسف صدیقی، صدر مجلس العلماء بھوپال

تعلیم، بیعت و خلافت، حرمین شریفین کا سفر اور صدارتِ مجلس العلماء کا تذکرہ

آپ مولانا مفتی عبدالقیوم صاحب کے بڑے صاحبزادے تھے۔ ابتدائی تعلیم اپنے والد بزرگوار سے حاصل کی اور عالمہ فاضلہ والدہ کی آغوش میں تربیت پائی، نیز اپنے قریبی عزیز قاضی محمد ایوب سے تحصیلِ علمی کی۔ جب تکمیل کا قصد ہوا تو پھر اسی اجڑے دیار یعنی دہلی کا رخ کرنا پڑا جو برباد ہونے کے بعد بھی معمورِ علم و ہنر تھا۔ شاہ محمد اسحاق صاحب رخصت فرما چکے تھے اور اس وقت دہلی میں مولانا محبوب علی دہلوی، مولانا رشید الدین خان، مفتی صدر الدین دہلوی اور مولانا مملوک علی نانوتوی کا طوطی بول رہا تھا۔ آپ نے ان باکمال اور متبحر اساتذہ سے علوم و فنون کی تکمیل کی۔

فراغت کے بعد دہلی کے نامِ گرامی خاندانِ خواجہ میر درد میں رشتۂ عقد منعقد ہوا، آپ کی اہلیہ محترمہ، ناصرہ نواب کی ہمشیرہ تھیں۔ مولانا یوسف اپنے والد بزرگوار سے سندِ عالی لے چکے تھے، اب دہلی کے مذکورہ علماء و فضلا سے تکمیل کر کے سرزمینِ بھوپال کو مرکزِ درس و تدریس بنایا۔ آپ کی ذاتِ گرامی کی بدولت مسندِ درس خوب رونق افروز ہوئی اور حسبِ روایتِ خاندان قرآن و سنت کا رنگ چھایا ہوا تھا۔

اس کے بعد زیارتِ خانۂ کعبہ کے لیے حرمین شریفین روانہ ہوئے اور 1265ھ میں اپنے نانا حضرت شاہ محمد اسحاق کے برادرِ خرد مولانا شاہ محمد یعقوب سے بیعتِ ارادت فرمائی اور اجازت و خلافت سے سرفراز ہوئے، نیز علمائے حرمین سے استفادہ کیا۔ علامہ ابن عابدین شامی صاحبِ درِ مختار کے پوتے علامہ سید محمد علاؤ الدین صاحب، مصنفِ قرۃ العیون الاخیار (متوفی 1290ھ) سے علمی مذاکرے فرمائے، علامہ نے آپ کے ساتھ بہت اعزاز و اکرام کا معاملہ فرمایا۔

بالآخر ظاہری و باطنی کمالات سے آراستہ ہو کر بھوپال وارد ہوئے اور پہلے سے زیادہ سرگرمی و مستعدی سے اس دولتِ بے بہا کو تقسیم کرنے لگے۔ جب بھوپال میں قضا و افتاء کے اختلاف کو دور کرنے کے لیے مجلسِ علماء کا قیام عمل میں آیا تو اس کی صدارت کا سہرا آپ ہی کے سر بندھا، اور آپ ہر طرح اس کے مستحق تھے۔ علمائے احناف اور اہلِ حدیث اپنے مسائل آپ ہی کی طرف رجوع کرتے اور آپ ہی کا فتویٰ آخری فیصلہ مانا جاتا۔ آپ کی خاندانی نسبت کی وجہ سے ہندوستان کے سبھی علماء آپ کا احترام فرماتے تھے، یہاں تک کہ مولانا قاسم نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ بھی آپ کی بہت عزت و تکریم فرماتے تھے۔

آخری عمر میں فالج کے حملے نے مولانا یوسف صاحب کو چلنے پھرنے سے معذور کر دیا، تاہم مجلسِ علماء کی صدارت فرماتے رہے اور تادمِ آخر اس چراغِ ارشاد و ہدایت سے علم و عمل کی روشنی پھیلتی رہی۔ 1325ھ میں آپ نے داعیِ اجل کو لبیک کہا اور بھوپال کی سرزمین کے خطۂ صالحین میں تدفین ہوئی۔