تذکرۃ الصالحین از قریۃ الصالحین: مولانا محمد فاضل پھلتی
دارالعلوم دیوبند کے ابتدائی اساتذہ اور شیخ الہند کے رفیقِ درس کا تذکرہ
مولانا محمد فاضل پھلتی بن عبدالماجد بن عبدالغفور بن مولانا محمد امیر بن محمد اشرف بن محمد معظم بن محمد عارف بن شاہ ابو الفضل بن شاہ ابو الفتح بن شیخ فرید بن شیخ محمود بن حضرت قاضی محمد یوسف ناصحی صدیقی۔ آپ کا تعلق پھلت کے بزرگ خاندانِ ولی الہٰی سے تھا، آپ کے والد کا نام عبدالماجد تھا۔ آپ کی پیدائش 1261ھ میں پھلت میں ہوئی اور ابتدائی تعلیم بھی وہیں حاصل کی۔
اس کے بعد آپ دارالعلوم دیوبند تشریف لے گئے، جہاں آپ حضرت شیخ الہند کے رفیقِ درس اور حضرت امام قاسم نانوتوی کے شاگرد تھے۔ 1289ھ میں دیوبند سے دورۂ حدیث کیا اور وہیں درس و تدریس کا سلسلہ شروع کیا۔ دارالعلوم دیوبند کے ابتدائی استادوں میں آپ کا نام آتا ہے۔ آپ کے رفقاء میں مولانا خلیل احمد محدث سہارنپوری، مولانا عبداللہ انصاری، مولانا فخر الحسن گنگوہی اور مولانا احمد حسن امروہی شامل ہیں۔
آپ نے مدارالمہام کے مدرسہ جمالیہ میں درس دیا، پھر نواب سلطان جہاں بیگم والیِ بھوپال نے آپ کو اپنے صاحبزادگان عبید اللہ خان اور نصر اللہ خان کا اتالیق مقرر کیا۔ اس کے بعد وطن واپس چلے گئے اور دوبارہ بھوپال تشریف نہ لائے، وہیں منصب مقرر ہوا اور پھلت میں 1339ھ میں انتقال ہوا۔
حضرت شیخ الہند سے بے حد خلوص اور محبت تھی، شیخ ان سے ملنے کے لیے سال میں دو بار ضرور تشریف لاتے اور مولانا فاضل بھی ایسے بزرگ ساتھی سے ملنے دیوبند پہنچتے۔ آپ شیخ کے محرمِ راز اور تحریکِ ریشمی رومال کے ہمدرد تھے۔ ان کے علاوہ پھلت میں جو دیگر علماء موجود تھے وہ بھی شیخ الہند سے اچھا تعلق رکھتے تھے۔
"ارواحِ ثلاثہ" میں مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کی روایت اس طرح درج ہے کہ ایک مرتبہ مولانا قاسم نانوتوی کے پاس ان کے خادم مولوی فاضل حاضر تھے، مولانا قاسم نے ان کو مٹھائی تقسیم کرنے کا حکم فرمایا، انہوں نے تقسیم کر دی۔ آخر میں اتفاق سے تھوڑی سی مٹھائی بچ گئی تو آپ نے فرمایا: "الفاضل للقاسم" یعنی بچی ہوئی مٹھائی تقسیم کرنے والے کی ہے۔ مولوی فاضل نے جواب دیا: "الفاضل للفاضل و القاسم محروم" یعنی فاضل مٹھائی تو فاضل کی ہے اور قاسم محروم ہے، یعنی بچی ہوئی مٹھائی صاحبِ فضیلت کی ہے اور تقسیم کرنے والا محروم ہے۔ (ارواحِ ثلاثہ، صفحہ 284)
حضرت مولانا قاسم نانوتوی کے مکتوبات "قاسم العلوم" کے نام سے شائع ہوئے ہیں، ان کا پہلا خط مولانا محمد فاضل ہی کے نام ہے۔
