Jumu'ah, 23 Rabi' al-Awwal 1448 AH
Support Al-Falah Welfare

تذکرۃ الصالحین از قریۃ الصالحین: حضرت مولانا عبدالحئی بڑھانوی

شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی کے داماد و ارشد تلمیذ اور شہیدِ راہِ جہاد کا تذکرہ

تذکرۃ الصالحین از قریۃ الصالحین: حضرت مولانا عبدالحئی بڑھانوی
تذکرۃ الصالحینسلسلہ علمی و روحانی مضامین

تذکرۃ الصالحین از قریۃ الصالحین: حضرت مولانا عبدالحئی بڑھانوی

شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی کے داماد و ارشد تلمیذ اور شہیدِ راہِ جہاد کا تذکرہ

حضرت مولانا عبدالحئی بڑھانوی بن ہیبت اللہ بن مولانا شاہ نور اللہ بن مولانا شاہ معین الدین اجمیری پھلتی، علمائے ربانیین میں سے ہیں۔ پھلت آپ کا وطن ہے، دادا نے بڑھانہ ہجرت فرمائی تھی۔ آپ حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی کے داماد، لائق شاگرد اور رشتے کے بھتیجے تھے۔ آپ ان شخصیات میں سے ہیں جنہوں نے تمام علومِ معقولات و منقولات حضرت خاتم المحدثین شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی سے پڑھے، یعنی شاہ عبدالعزیز کے دونوں بھائیوں شاہ رفیع الدین اور شاہ عبدالقادر کے بعد آپ نے شاہ عبدالعزیز سے علم و فیض حاصل کیا۔

حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی نے آپ کو "شیخ الاسلام" کا لقب عطا فرمایا اور "تاج المفسرین، فخر المحدثین، سرآمدِ علمائے محققین" کا خطاب دیا۔ مولانا عبدالحئی اور شاہ اسماعیل دہلوی کے متعلق آپ نے فرمایا کہ یہ دونوں حضرات تفسیر، حدیث، فقہ، اصول اور منطق وغیرہ میں اس فقیر سے کم نہیں ہیں، جنابِ باری کی عنایت ان دونوں بزرگوں کے ساتھ شاملِ حال ہے، اس کا شکر مجھ سے ادا نہیں ہو سکتا، یہ دونوں علمائے ربانی ہیں، اور جو اشکال حل نہ ہوں ان کے سامنے پیش کرو۔ بظاہر ان کلمات سے اپنی تعریف نکلتی ہے لیکن اظہارِ حق واقف پر واجب ہے۔

تقویٰ، عمل، تاثیرِ آواز، خواہشِ دنیا سے بے رغبتی، لباس اور کھانے پینے میں ایثار و قناعت کے سلسلے میں وہ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی تھے۔ زیادہ تر خاموش رہتے، اللہ پر انتہائی توکل کرتے، باوقار تھے، سنتِ رسول کے حد درجہ محب اور بدعت و رسومات سے دور رہتے تھے۔ نورِ ایمان نے ان کو ہر طرف سے گھیر رکھا تھا اور عاداتِ صالحین کے حامل تھے۔ ان کی تعریف کی جاتی تو خفگی کا اظہار فرماتے اور نصیحت کی جاتی تو خوش ہوتے۔ قلم ان کے فضائلِ حمیدہ کا احاطہ کرنے سے قاصر ہے، بلاشبہ وہ قاتلِ بدعت تھے اور ان کا مقصدِ وحید احیائے دین اور اعلائے کلمۃ اللہ تھا۔ اپنی خداداد قابلیت کی بنا پر علمی بحث اور مناظرے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے۔

الغرض ایک عرصے تک درس و تدریس میں مصروف رہے اور شاہ عبدالعزیز کے مدرسے کے دوسرے دور کے شبانہ روز محدثین و مدرسین میں گنے جاتے تھے۔ منقول و معقول میں جامعیت کے اعتبار سے ان کا شمار شاہ عبدالعزیز کے دوسرے طبقے کے ارشد تلامذہ میں ہوتا تھا۔

بیعت: خاندانِ ولی الہٰی میں سب سے پہلے سید احمد شہید رحمۃ اللہ علیہ سے مولانا محمد یوسف صدیقی پھلتی بیعت ہوئے، ان کے بعد مولانا عبدالحئی اور شاہ اسماعیل دہلوی سید احمد شہید کے ہاتھ پر بیعت ہوئے، اور ان حضرات نے سید صاحب کے ساتھ جہادِ بالاکوٹ میں شرکت فرمائی۔ حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی کی زندگی میں خاندانِ ولی الہٰی سے جن لوگوں نے سید احمد شہید کے ہاتھ پر بیعت کی ان میں مولانا محمد یوسف صاحب، مولوی وجیہ الدین پھلتی، حکیم مغیث الدین پھلتی اور حافظ معین الدین پھلتی اپنے عزیز و اقرباء کے ساتھ شامل ہیں۔

چنانچہ یہ حضرات سید صاحب کے ساتھ ہندوستان کے طول و عرض میں دعوت و تبلیغ کے لیے تشریف لے گئے، دوآبہ کا دورہ کیا، غازی الدین نگر، مراد نگر، میرٹھ، سردھنہ، بڑھانہ اور پھلت تشریف لے گئے۔ پھلت میں چالیس پچاس افراد نے استقبال کیا اور کہا کہ تین روز سے ہم منتظر ہیں۔ آپ شیخ ولی محمد پھلتی کے مردانے میں مقیم ہوئے، نمازِ عصر کے بعد بیعت کا سلسلہ ہوا۔ میاں محمد فضیل، شیخ ولی محمد صاحب کے والد شیخ غلام محمد، محمد عارف، دونوں بھائی غلام علی اور حافظ معین الدین، حافظ احمد الدین اور عبدالعلی وغیرہ نے بیعت کی، اور کھانا بھی شیخ ولی محمد صاحب کے ہاں تناول فرمایا۔

اس کے بعد محمد عثمان بیعت میں داخل ہوئے، جن کا وضع بالکل سپاہیانہ تھا، آپ نے فرمایا: بھائی! اگرچہ اس وقت تمہارا ظاہر اچھا نہیں لیکن تمہارا باطن صاف ہے، انشاء اللہ چند دنوں میں ظاہر بھی باطن کی طرح ہو جائے گا۔ ان کے گھر کی مستورات بھی بیعت ہوئیں، شیخ ولی محمد کی والدہ اور دوسری مستورات بھی بیعت سے مشرف ہوئیں۔ مولوی وجیہ الدین صاحب نے دو وقت دعوت کی اور اپنے مکان لے جا کر مستورات کو بیعت کرایا۔ میاں عصمت اللہ اپنے والد شیخ صبور اللہ کے ساتھ بیعت ہوئے، میاں سعد الدین نے بھی ضیافت کی اور ان کے گھر کی مستورات بھی بیعت ہوئیں۔ دوسرے روز حافظ محمد حسین نے بھی دعوت کی۔ مولانا اسماعیل صاحب کے خالہ زاد بھائی میاں جمال الدین، حافظ محمد عثمان، عبدالرزاق، حافظ قطب الدین، حکیم قمر الدین، میاں صلاح الدین، شیخ عبدالحکیم، عبدالرؤف اور دوسرے شرفا نے بھی ایک ایک وقت کی دعوت کی۔

جب تک قصبے میں قیام رہا معمول تھا کہ شیخ ولی محمد کے بالا خانے میں ورزش فرماتے، اس وقت شیخ ولی محمد، شیخ عبدالرؤف، سعد الدین، صلاح الدین، عبدالحکیم، محمد انصاری اور محسن خان بھی موجود ہوتے۔ ورزش کے بعد پانی میں بھیگے ہوئے چھوہارے تناول فرماتے اور حاضرین کو بھی عنایت کرتے۔ سترہ دن کے قیام کے بعد آپ پھلت سے روانہ ہوئے اور مظفر نگر، اطرافِ دیوبند اور سہارنپور کے مختلف قصبوں میں تشریف لے گئے۔ تاریخ کے اوراق آپ کے کارناموں سے بھرے ہوئے ہیں۔

وصال: مولانا عبدالحئی سید احمد شہید رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ سرحد کی طرف جہادِ بالاکوٹ کے لیے روانہ ہوئے۔ آپ پہلے سے مرضِ بواسیر میں مبتلا تھے، مقامِ خیر (کھیڑ) میں زمانۂ قیام کے دوران شدید درد کا دورہ ہوا، بہت علاج معالجہ کرایا گیا لیکن مرض کی وجہ سے کمزوری بڑھتی گئی یہاں تک کہ اکثر اوقات غشی کا غلبہ رہتا۔ انتقال کے وقت سید صاحب سے عرض کی کہ شہادت تو میری قسمت میں نہ ہوئی، اب تمنا ہے کہ اپنا قدم میرے سینے پر رکھ دیجیے، اسی حالت میں یہ جان نکل جائے۔ سید صاحب نے فرمایا کہ میں پاؤں کہاں رکھوں، آپ کے سینے پر ہاتھ رکھتا ہوں، چنانچہ اپنا ہاتھ ان کے سینے پر رکھ دیا۔ تھوڑی دیر بعد چند مرتبہ "اللہ رفیق الاعلیٰ، اللہ رفیق الاعلیٰ" کے الفاظ زبان سے ادا کیے اور روح عنصری جسم کو چھوڑ کر مالکِ حقیقی کی بارگاہ میں پہنچ گئی۔ آپ نے 8 شعبان 1242ھ کو رحلت فرمائی، آپ کے اکلوتے فرزند مفتی مولانا عبدالقیوم صاحب آپ کے ساتھ تھے۔

تصانیف: مولانا عبدالحئی صاحب نے ساری زندگی درس و تدریسِ دینِ متین میں صرف کی۔ جب سید صاحب کے ہاتھ پر بیعت کی اور ان کے ساتھ حرمین شریفین تشریف لے گئے، اس وقت انہوں نے "صراطِ مستقیم" کے دو باب سلوک میں تحریر کیے تھے اور پوری کتاب "صراطِ مستقیم" کا عربی زبان میں ترجمہ کیا۔ اس کے علاوہ شیخ رشید الدین کشمیری سے جو تحریری مناظرہ ہوا تھا، اس کی رودادِ بھی مرتب فرما کر کتابی شکل میں محفوظ کر دی۔ نیز نکاحِ بیوگان کے متعلق بھی ایک رسالہ تحریر فرمایا تھا۔