Jumu'ah, 23 Rabi' al-Awwal 1448 AH
Support Al-Falah Welfare

تذکرۃ الصالحین از قریۃ الصالحین: محترمہ امت الغفور صاحبہ دہلویہ

خاندانِ ولی الہٰی کی عالمہ فاضلہ خواتین اور بنتِ شاہ محمد اسحاق کا تذکرہ

تذکرۃ الصالحین از قریۃ الصالحین: محترمہ امت الغفور صاحبہ دہلویہ
تذکرۃ الصالحینسلسلہ علمی و روحانی مضامین

تذکرۃ الصالحین از قریۃ الصالحین: محترمہ امت الغفور صاحبہ دہلویہ

خاندانِ ولی الہٰی کی عالمہ فاضلہ خواتین اور بنتِ شاہ محمد اسحاق کا تذکرہ

اسلام کے عہدِ اولین اور نبوت و خلافت کے دورِ زریں میں اور اس کے بعد بھی مردوں کے ساتھ ساتھ عورتیں بھی تعلیماتِ اسلامی سے بہرہ مند تھیں۔ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے ذریعے چوتھائی دین ہم تک پہنچا اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا علمی مقام بھی بلند ہے۔ لیکن جب خلافت نے ملوکیت کا لبادہ اوڑھا اور نظامِ اسلامی میں بدعت و فتنوں سے دراڑ پڑی تو صنفِ نازک کی طرف بے توجہی بڑھتی رہی اور اس دورِ انحطاط میں اسلامی تعلیمات کے لحاظ سے عورتیں پسماندہ ہو کر رہ گئیں۔

تاہم علمائے حق اور صوفیائے عظام نے اپنے حلقۂ اثر میں اس صنف کو اٹھانے کی سعی جاری رکھی۔ حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری کی صاحبزادی حافظہ جمال اور محبوبِ الہٰی کی والدہ محترمہ زلیخا کے تعلیمی و تربیتی کارنامے اس کی روشن مثال ہیں۔ خاندانِ ولی الہٰی میں حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کی والدہ مسمات فضیلت النساء عارفہ، عالمہ اور کاملہ خاتون تھیں، ان کے پاک بطن سے حضرت امیر المومنین فی الحدیث عارف باللہ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی اور حضرت عارف باللہ مولانا شاہ اہل اللہ پھلتی جیسی نابغۂ روزگار شخصیات پیدا ہوئیں۔ بی بی فضیلت النساء کی والدہ بھی عارفہ کاملہ تھیں اور حضرت شاہ عبدالرحیم رحمۃ اللہ علیہ کے ہاتھ پر بیعت تھیں، وہ خطوط جو شاہ عبدالرحیم نے ان کے نام لکھے فقیر کی نگاہ سے گزرے ہیں۔ اس خاندان کی عورتیں علمِ ظاہر و باطن سے آراستہ تھیں، ہمارے جدِ اعلیٰ حضرت مولانا قاضی یوسف ناصحی سدھوری بخاری کی خوش دامن بھی عالمہ، فاضلہ اور ولیہ تھیں۔

محترمہ امت الغفور، دختر شاہ محمد اسحاق، ولی الہٰی خاندان میں وہ خوش قسمت خاتون تھیں جنہوں نے علم و عمل کے گہوارے میں پرورش پائی۔ ایسی بزرگ و بابرکت ہستی جو محبتِ خداوندی میں ہر دم محو و سرمست اور عشقِ نبوی سے سرشار تھیں، جن کی کائناتِ قلب پر گناہ کی پرچھائی تک نہ پڑی اور اپنی حیاتِ طیبہ میں ملکوتی صفات سے آراستہ رہیں۔ شاہ محمد اسحاق جیسا مربی اور امت الغفور جیسی متعلمہ! انہوں نے ہوش و شعور کی تکمیل کے ساتھ حدیث اور فقہ کی بھی تکمیل فرمائی۔

اس عالمہ فاضلہ خاتون کا رشتۂ نکاح ایسی مقدس شخصیت کے ساتھ استوار ہوا جو اس خاندان کے بزرگوں کی صحبت میں تپ کر کندن بن چکی تھی، چنانچہ مولانا عبدالقیوم صاحب کے ساتھ آپ کا نکاح ہوا۔ آپ اپنے شوہر کے ساتھ سفرِ حجاز میں گئیں، واپسی ہوئی تو مولانا کے ساتھ بھوپال میں اقامت کا شرف حاصل ہوا۔ مولانا کو حدیث و فقہ کے کسی مشکل مسئلے میں پیچیدگی پیدا ہوتی تو حرم میں تشریف لے جاتے اور بی بی صاحبہ سے اسے حل کرواتے۔

سید صابر علی نقل فرماتے ہیں کہ ایک بار دف کا مسئلہ علمائے بھوپال میں موضوعِ بحث بنا کہ کون سا دف بجانا جائز ہے۔ یہ مباحثہ مولانا کے دولت خانے پر ہو رہا تھا اور مسئلہ کسی طرف نمٹتا ہی نہ تھا۔ بی بی صاحبہ کے کانوں میں بھی بات پہنچی، انہوں نے مولانا کو اندر بلایا اور فرمایا: مجھے اس طرح یاد ہے کہ جب سید احمد شہید نے نکاحِ بیوگان کی سنت کا احیا کرایا تو اس خوشی میں دف منگوایا گیا، جب ہاتھ میں لے کر دف بجایا جاتا تو حضرت بجانے دیتے، اور جب زمین پر رکھ کر بجانا چاہتے تو منع فرما کر ہاتھ سے روک دیتے۔ لہٰذا معلوم ہوا کہ ایک طرف کھلا ہوا دف جائز ہے اور دونوں طرف سے منڈھا ہوا ناجائز ہے۔

بی بی صاحبہ سے دو صاحبزادے اور ایک صاحبزادی ہوئیں۔ سب سے پہلے صاحبزادی ستارہ بی کا انتقال ہوا، پھر چھوٹے صاحبزادے میاں ابراہیم کا، اور کچھ عرصے بعد خود بی بی صاحبہ کا انتقال ہوا۔ ایک روایت کے مطابق قبرستانِ کربلا میں دفن ہوئیں اور دوسری روایت میں قلعے کے زیریں قبرستان میں تدفین ہوئی۔ مولانا مفتی عبدالقیوم صاحب کا ذاتی کتب خانہ، جو خاندانِ ولی الہٰی کے نوادرات و برکات پر مشتمل تھا، بحقِ سرکار مقفل کر دیا گیا، بارہ سال بعد کھولا گیا تو اندر دیمک کے سوا کچھ بھی نہ تھا۔